اسمارٹ فون صارفین کے لیے بری خبر؛ قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ، وجہ کیا ہے؟

کمپیوٹرز کے بعد اب اسمارٹ فون انڈسٹری بھی عالمی سطح پر ‘ریم’ (RAM) کی شدید قلت کا شکار ہو گئی ہے۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کار کمپنی آئی ڈی سی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ریم کی اس کمی کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کا امکان ہے۔

اسمارٹ فون مارکیٹ میں تاریخی گراوٹ کا امکان:

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2026 کے دوران عالمی اسمارٹ فون مارکیٹ شیئر میں 12.9 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون انڈسٹری کو ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ریم کی قلت کا یہ مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ اس کے سامنے ماضی کے بحران، جیسے امریکی صدر کے ٹیرف اور کورونا وائرس کی وبا بھی معمولی معلوم ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کویت میں امریکی جنگی طیارہ ایف 15 گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ رہا

سستے فونز کا خاتمہ اور قیمتوں میں اضافہ:

موجودہ سنگین صورتحال کے باعث اسمارٹ فون کمپنیاں سستے فونز کی تیاری مکمل طور پر بند کر سکتی ہیں، جس سے صارفین مہنگے فونز خریدنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آئی ڈی سی کا کہنا ہے کہ یہ کوئی عارضی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس بحران کی وجہ سے مارکیٹ میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔

مستقبل کی صورتحال اور اینڈرائیڈ فونز پر اثرات:

رپورٹ کے مطابق 2027 تک صورتحال میں بہتری کی امید کم ہے۔ اگر اس وقت تک ریم کی فراہمی بہتر ہو بھی جائے، تب بھی فونز کی قیمتوں کا اپنی پرانی سطح پر واپس آنا مشکل ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے جدید میموری چپس کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے اگلے سال ریم کی طلب پوری کرنا مشکل ہو جائے گا، جس سے اینڈرائیڈ فونز سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی۔

مزید پڑھیں: دشمن کا غلام بنانے کا خواب قبر میں دفن ہوگا، دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے؛ ایرانی آرمی چیف کا دوٹوک اعلان