اقوام متحدہ میں اسرائیلی حملے کے خلاف بھرپور حمایت پر ایران کا پاکستان سے خصوصی اظہارِ تشکر

نیویارک: اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے پاکستان، چین اور روس کی جانب سے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی بھرپور مذمت اور اصولی موقف اختیار کرنے پر ان ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ایرانی مندوب نے ان ممالک کی سفارتی حمایت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ حملے مکمل طور پر غیر قانونی اور بلاجواز ہیں۔

پاکستان کا جرات مندانہ موقف اور ایرانی شکریہ:

ایرانی حکام نے خاص طور پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے کیونکہ پاکستان وہ واحد مسلم ملک ہے جس نے اسرائیل اور امریکہ کی ایران پر حالیہ جارحانہ کارروائی کی نہ صرف کھل کر مذمت کی بلکہ ایران کے لیے مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق، ان حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ہو چکی ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کو ایک خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران حملوں کے بعد سیکیورٹی خدشات: وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ روس منسوخ، عسکری قیادت کو مشاورت کے لیے بلا لیا

چین کی تشویش اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ:

ادھر چین نے ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ مزید کشیدگی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔ چین نے زور دیا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف واپس آنا چاہیے۔

چینی شہریوں کے لیے ہنگامی سفری ہدایات:

چین نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی سفری ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اسرائیل میں موجود چینی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے یا مصر جانے کے لیے طابا بارڈر کراسنگ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح، ایران میں مقیم چینی شہریوں کو بھی جلد از جلد ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انخلا کے لیے زمینی راستوں کے طور پر آذربائیجان، آرمینیا، ترکی اور عراق کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ شہری محفوظ طریقے سے نکل سکیں۔

عالمی سطح پر ردِعمل اور سفارتی اثرات:

واضح رہے کہ پاکستان، چین اور روس کا یہ اصولی موقف خطے میں ایران کی خودمختاری کے تحفظ اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں عالمی سلامتی کے لیے شدید خدشات پیدا کر رہی ہیں، جن کے دور رس سفارتی اور سیاسی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان: آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر جاری

مذاکرات اور تحمل کی اپیل:

اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایرانی مندوب نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل مزاجی سے کام لیں اور غیر ضروری اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات اور بامقصد مکالمے میں ہی پنہاں ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

Scroll to Top