ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی انتہائی تشویشناک صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا دو روزہ اہم دورہ روس ملتوی کر دیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق انھوں نے 2 مارچ کو روس روانہ ہونا تھا، جہاں توانائی اور علاقائی استحکام جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال ہونا تھا، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر معمولی سیکیورٹی حالات کے باعث یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطح کا ہنگامی مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں اعلیٰ عسکری قیادت، انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور متعلقہ وفاقی وزراء شریک ہوں گے۔ اجلاس کے دوران ایران اور افغانستان سمیت خطے کی مجموعی صورتحال، سرحدی حالات اور داخلی سلامتی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ فضائی اور زمینی نگرانی کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان: آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر جاری
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اہم بیٹھک میں موجودہ بحران کے تناظر میں پاکستان کی مستقبل کی پالیسی اور سفارتی ردِعمل کے حوالے سے رہنما اصول مرتب کیے جائیں گے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی ممکنہ بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو پہلے ہی چوکس رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔




