عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ ذرائع سے پھیلنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا دعویٰ کیا جا رہا تھا ۔
رائٹرز کے مطابق ادارے کی جانب سے ایسی کوئی خبر جاری نہیں کی گئی اور انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے اسکرین شاٹس اور رپورٹس جعلی اور من گھڑت ہیں جنہیں دانستہ طور پر ادارے سے منسوب کیا گیا ۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ’’آپریشن وعدہ صادق 4‘‘ کے دوران اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ تاہم رائٹرز سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں کی وضاحت کے بعد ان افواہوں کی حقیقت واضح ہو گئی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بحرین :ایرانی ڈرون اونچی عمارت سے ٹکراگیا، ویڈیو وائرل
ماہرین کے مطابق موجودہ کشیدہ صورت حال میں اس نوعیت کی غیر مصدقہ اطلاعات تیزی سے پھیلتی ہیں جو عوامی سطح پر تشویش اور بے یقینی کو جنم دیتی ہیں ۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں مشرقِ وسطیٰ میں جاری نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں، جن کا مقصد حریف ممالک کے اندر اضطراب اور بداعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حساس حالات میں غلط معلومات کی ترسیل علاقائی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے ۔
رائٹرز اور دیگر عالمی خبر رساں اداروں نے اس موقع پر صحافتی اصولوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بڑی یا حساس خبر کو مستند اور باضابطہ ذرائع سے تصدیق کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہیے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران مزید حملوں سے باز رہے،برطانوی وزیراعظم سرکیئرسٹارمر کا انتباہ جاری
ادھر تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکومت نے بھی ان دعوؤں کو دشمن کا پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جبکہ سرکاری میڈیا معمول کے مطابق اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے ہے ۔




