پاک افغان جنگ کے دوران پاکستان نے جو فوجی کارروائی شروع کی ہے اسے آپریشن غضب للحق کا نام دیا گیا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس آپریشن غضب للحق کا مطلب کیا ہے اور افغانستان کے خلاف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کو یہ نام کیوں دیا گیا؟
گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے کیے جانے والے اکثر آپریشنز کے نام مذہبی یا عربی زبان سے لیے گئے جس کا مقصد اس آپریشن کو اخلاقی یا نظریاتی پس منظر دینا بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق، افواجِ پاکستان نے افغان طالبان کے کانڈکسی بیس چترال کو نشانہ بنا دیا
تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ایک آپریشن ایسا بھی کیا گیا جس کا نام انگریزی زبان سے لیا گیا۔
افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون 2014 کو عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کو ’’ضربِ عضب‘‘کا نام دیا گیا تھاجو عربی زبان کا لفظ ہے۔
ضرب عضب دو الفاظ کا مرکب ہے، ضرب جس کا مطلب ہے وار اور دوسرا لفظ عضب ہے جس کا مطلب ہے نبی پاک ﷺ کی تلوار۔ اس طرح ضربِ عضب کا مطلب حق کی تلوار کا وار ہے۔
پاک فوج نے فروری 2017ء میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں تلاشی کی کارروائیاں کیں اور کئی افراد کو حراست میں لیا اس آپریشن کو رد الفساد کا نام دیا گیا جس کا مطلب فساد کو رد کرنا یا فساد یعنی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کے دوران 2019 میں بھارتی فضائی حملے کے جواب میں پاکستان نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارتی پائلٹ ابھینندن کو بھی گرفتار کیا گیاتھا۔
یہ نام انگزیری زبان سے لیا گیا، سوئفٹ کا مطلب تیز اور ریٹارٹ کا مطلب جواب یا ردعمل ہے یعنی سوئفٹ ریٹارٹ کا مطلب فوری جواب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر میں غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کی گرفتاریاں شروع
’غضب للحق‘ عربی زبان کی ترکیب ہے جسے تین حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ لفظ ’غضب‘ عربی زبان میں شدید غصے، جوش یا ردعمل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ محض جذباتی غصہ نہیں بلکہ اکثر مذہبی یا اخلاقی سیاق میں ’حق کے دفاع میں سخت ردعمل‘ کے معنی بھی دیتا ہے۔
دوسرا جز ’لِل‘ دراصل ’لام‘ اور ’ال‘ کا مرکب ہے جس کا مطلب ہوتا ہے ’کے لیے‘ یا ’کی خاطر‘۔ اور تیسرا لفظ ’حق‘ عربی میں سچائی، انصاف، درستگی اور جائز حق کے معنی رکھتا ہے۔ قرآن اور اسلامی فقہ میں ’حق‘ کا لفظ انصاف اور درست موقف کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
اس طرح مکمل ترکیب ’غضب للحق‘ کا لفظی مطلب بنتا ہے ’حق کے لیے غضب‘ یا ’انصاف کے لیے ردعمل‘۔ تو آسانی سے اس کو کہا جا سکتا ہے کہ ’انصاف کے لیے غصہ‘ یا ’انصاف کے لیے ردعمل‘، عربی قواعد کے لحاظ سے یہی درست اور قابل فہم تعبیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصطلاحی طور پر یہ نام اس تصور کو ظاہر کرتا ہے کہ کارروائی کو جارحیت نہیں بلکہ ’حق کے دفاع‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔




