پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی اور بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کے تناظر میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں ایک اور چیک پوسٹ کا کنٹرول سنبھال لیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران مخالف عناصر اپنا اسلحہ اور جھنڈے چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سرحد پار سے ہونے والی بلااشتعال سرگرمیوں کے جواب میں کیا گیا تاکہ علاقے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاک فوج کی بروقت اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے باعث بغیر کسی بڑے جانی نقصان کے پوسٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔
کارروائی کے بعد جب سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کا جائزہ لیا تو افغانستان کا پرچم زمین پر پڑا ہوا تھا۔ پرچم پر درج کلمہ طیبہ دیکھ کر پاک فوج کے جوانوں نے اسے نہایت احترام اور ادب کے ساتھ اٹھا کر محفوظ مقام پر رکھ دیا۔
اس اقدام کو اہلکاروں کے اعلیٰ اخلاقی معیار اور مذہبی شعائر کے احترام کی روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
موقع پر موجود ایک اہلکار نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ اسلامی اقدار اور مذہبی علامات کا احترام ہر حال میں مقدم ہے، اور کسی کو بھی دین کے نام پر دہشت گردی یا بے گناہوں کے خون کا جواز نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ اور کرم کے عوام آپریشن غضب للحق کی حمایت میں باہر نکل آئے، افواجِ پاکستان سے یکجہتی کیلئے ریلیاں
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج ہر کارروائی میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ اخلاقی و مذہبی اقدار کی پاسداری کو بھی یقینی بناتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں کسی بھی قسم کی دراندازی یا دہشت گردی کی کوشش کا مؤثر جواب دیا جاتا رہے گا، اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔




