پاکستان میں فائیو جی سروس کے باقاعدہ آغاز اور انٹرنیٹ کی رفتار میں انقلابی تبدیلی کے لیے 10 مارچ کو ہونے والی اسپیکٹرم نیلامی سے قبل ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صنعتی ذرائع کے مطابق، دو بڑی ٹیلی کام کمپنیوں، یوفون اور زونگ نے اس نیلامی میں اپنی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے درکار ‘ارنسٹ منی’ جمع کروا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہر کمپنی نے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی رقم جمع کرائی ہے، جس کے نتیجے میں مقررہ آخری تاریخ 27 فروری سے پہلے ہی مجموعی طور پر 3 کروڑ ڈالر کی رقم سرکاری خزانے میں پہنچ چکی ہے۔ اس پیش رفت کو اس پورے عمل میں کمپنیوں کی سنجیدگی اور مارکیٹ میں مقابلے کی فضا کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، فی تولہ سونا 5 لاکھ 41 ہزار سے متجاوز
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملک کی ایک اور بڑی موبائل کمپنی ‘جاز’ (Jazz) کی جانب سے بھی جلد مطلوبہ رقم جمع کروائے جانے کا امکان ہے کیونکہ اس اہم نیلامی سے اس کمپنی کے باہر رہنے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی معلوماتی دستاویز کے مطابق، ہر ممکنہ بولی دہندہ کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر بطور ضمانت جمع کروانا لازمی ہے۔ یہ رقم کامیاب ہونے والی کمپنی کی حتمی لائسنس فیس میں ایڈجسٹ کر دی جائے گی۔
حکومتِ پاکستان کو اس نیلامی سے 60 کروڑ ڈالر سے زائد کی آمدنی کی توقع ہے، تاہم حتمی رقم کا فیصلہ بولی کے دوران ہونے والے مقابلے پر ہوگا۔ پی ٹی اے کے مطابق، دستیاب 597 میگاہرٹز اسپیکٹرم میں سے کم از کم نصف یعنی 300 میگاہرٹز کی فروخت نیلامی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اگر تین آپریٹرز اس عمل میں شریک ہوتے ہیں تو مطلوبہ حد تک فروخت یقینی ہو جائے گی، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ ماہرین کے مطابق، فائیو جی ٹیکنالوجی کے آنے سے ملک میں تیز رفتار براڈبینڈ اور جدید کاروباری خدمات کو فروغ ملے گا، جو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔




