اسلام آباد/ مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں نئے صدرِ مملکت کے انتخاب کے معاملے پر حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی تناؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات کے بعد خالی ہونے والے اس اہم ترین عہدے کے لیے پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جس نے ریاست کے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کر دیا ہے۔
صدر زرداری کی زیرِ صدارت اہم مشاورتی اجلاس:
اسلام آباد میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور سمیت پارلیمانی وفد نے شرکت کی۔ وفد نے صدر زرداری سے پارٹی معاملات اور مستقبل کے سیاسی اقدامات پر تفصیلی مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق، اس اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر کا اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آزادکشمیر کیلئے پیپلزپارٹی اپنا امیدوار لائے گی،صدر زرداری کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ
آئینی تقاضے اور صدارتی انتخاب کی حکمت عملی:
سردار تنویر الیاس خان کے مطابق، آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے نام پہلے ہی ارسال کیے جا چکے ہیں اور اس پر جلد فیصلہ متوقع ہے۔ اجلاس کے آغاز میں سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کی مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
ناموں کے حوالے سے پراسرار خاموشی:
پیپلز پارٹی کی قیادت نے صدارتی امیدوار کے نام کا ابھی تک باقاعدہ اعلان نہیں کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی مزید مشاورت کے بعد کسی ‘سرپرائز’ نام کے ساتھ سامنے آئے گی۔ دوسری جانب، ن لیگ کے ساتھ اس عہدے پر ہونے والی کھینچا تانی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا دونوں جماعتیں کسی ایک نام پر متفق ہو پائیں گی یا آزاد کشمیر کے ایوان میں صدارتی معرکہ آمنے سامنے کا ہوگا۔




