میرپور(کشمیر ڈیجیٹل)ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری آزاد کشمیر خواتین کے کاروبار کے فروغ کیلئے مسلم ہینڈز آزاد کشمیر کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری میں داخل ہونے کیلئے تیار۔
ڈبلیو سی سی آئی آزاد کشمیر مسلم ہینڈز کی تربیت یافتہ خواتین کو ہر سطح پر رجسٹریشن، قانونی معاونت اور مارکیٹ روابط کی سہولت فراہم کرے گا۔
خواتین کی قیادت میں انکیوبیشن ماڈلز مشترکہ کوششوں سے آزاد کشمیر کی دیہی معیشت کو نئی شکل دیں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دینی تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جارہاہے، شاہ غلام قادر
مسلم ہینڈز میرپور آفس میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں مسٹر محمد سلیمان، ایگزیکٹو منیجرمسلم ہینڈز میرپور، اورسید انجم بلال شامل تھے ۔
ہیڈ آف آپریشنز مسلم ہینڈز میرپور نے محمد زاہد خان، سیکریٹری ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ڈبلیو سی سی آئی) آزاد کشمیر کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر بھر میں خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اسٹریٹجک تعاون پر غور و خوض کیا گیا ۔
اجلاس کے دوران مسلم ہینڈز کے وفد نے ویمن چیمبر کو اپنی جاری روزگار اور مہارتوں کی ترقی سے متعلق مداخلتوں پر بریفنگ دی۔
بالخصوص الکبریٰ پروڈکشن سینٹرز کی آپریشنل پیش رفت پر جو میرپور، ڈڈیال، علی بیگ (بھمبر)، کوٹلی، اور بھارنگ (بھمبر) میں قائم کیے گئے ہیں۔
یہ مراکز اس وقت 130 سے زائد تربیت یافتہ خواتین کو گارمنٹس کی تیاری اور پیشہ ورانہ مہارتوں میں بہتری کے لیے منظم، کارکردگی پر مبنی آمدنی ماڈل کے تحت مصروف عمل رکھے ہوئے ہیں۔
ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری آزاد کشمیر نے بورڈ آف گورنرز کی منظوری سے ان اقدامات کی ادارہ جاتی مضبوطی اور پائیداری کیلئے اسٹریٹجک شراکت داری کو باضابطہ شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
باہمی اتفاق سے طے پایا کہ ڈبلیو سی سی آئی آزاد کشمیر تربیت یافتہ خواتین اور پروڈکشن یونٹس کو ہر سطح پر قانونی رجسٹریشن، ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل، کاروباری ڈھانچہ سازی اور مارکیٹ روابط میں سہولت فراہم کرے گا۔
گفتگو میں باقاعدہ کاٹیج انڈسٹری فریم ورک کی تیاری اور پروڈکشن سینٹرز کو قابل عمل سوشل انٹرپرائز ماڈل میں منتقل کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا تاکہ ڈونر سپورٹ کے بعد بھی طویل مدتی تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔
دونوں فریقین نے معیاری گارمنٹس کی برآمدی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے معیار، برانڈنگ اور تجارتی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے مربوط کوششوں پر زور دیا۔
مزید برآں، ریاستی سطح پر خواتین کی قیادت میں انکیوبیشن اور انٹرپرائز سپورٹ میکانزم کے قیام کے تصور پر بھی غور کیا گیا تاکہ کامیاب ماڈلز کو دیہی اضلاع میں وسعت دی جا سکے۔
یہ انکیوبیشن پلیٹ فارمز تکنیکی رہنمائی، وکالت معاونت اور مالی روابط فراہم کرنے کے لیے تصور کیے گئے ہیں، جس سے خواتین کی باضابطہ معیشت میں شرکت کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔
اجلاس کا اختتام اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ ریاست کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل خواتین کو منظم معاشی سرگرمیوں میں مؤثر طور پر شامل کرنے کیلئے ادارہ جاتی صلاحیتوں کو یکجا کیا جائے گا تاکہ پسماندہ طبقات کی بہتری اور آزاد کشمیر کی دیہی معیشت میں بامعنی کردار ادا کیا جا سکے۔




