بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے تعین کے طریقۂ کار میں ایک اہم انتظامی تبدیلی سامنے آئی ہے، جس کے تحت اس عمل میں مقامی ایجنٹس کا کردار ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد درآمدی گاڑیوں پر لاگو ہونے والی ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے تعین کا نظام پہلے سے مختلف انداز میں نافذ ہوگا۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے درآمد کی جانے والی گاڑیوں کے حوالے سے باقاعدہ طور پر کسٹمز جنرل آرڈر جاری کر دیا ہے۔ اس جنرل آرڈر کے اجراء کے ساتھ ہی درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے تعین میں مقامی سطح پر مجاز ایجنٹس کی شمولیت کا عمل ختم ہو گیا ہے، جو اس سے قبل اس پورے نظام کا حصہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کم بجٹ، زیادہ فائدہ، 2026 کی 7 سستی گاڑیاں کونسی ہیں؟
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق یورپ سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ہوگا۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یورپی ممالک سے پاکستان درآمد ہونے والی گاڑیوں کے لیے اب ڈیوٹی اور ٹیکسوں کا تعین مقامی ایجنٹس کے ذریعے نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کے لیے نیا طریقۂ کار نافذ ہوگا، جس کی بنیاد کسٹمز جنرل آرڈر میں رکھی گئی ہے۔
اس سے قبل صورتحال یہ تھی کہ استعمال شدہ گاڑیوں سمیت تمام اقسام کی درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کا تعین مجاز مقامی ایجنٹس کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ یہ ایجنٹس درآمدی دستاویزات، گاڑی کی تفصیلات اور دیگر متعلقہ معلومات کی بنیاد پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے تعین میں کردار ادا کرتے تھے۔ تاہم اب اس نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے مقامی ایجنٹس کے کردار کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: 2026 میں سب سے سستی گاڑی سوزوکی آلٹو بدستورسمجھی جا رہی ہے
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے اس کسٹمز جنرل آرڈر کے بعد درآمدی گاڑیوں سے متعلق ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے تعین کا طریقہ کار ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ یورپ سے درآمد ہونے والی گاڑیوں کے معاملے میں اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، جس کے نتیجے میں پہلے سے رائج نظام میں بنیادی تبدیلی آئے گی۔




