باغ( کشمیرڈیجیٹل)باغ آزاد کشمیر کے علاقے ملوٹ کے رہائشی شوکت محمود عرف راجہ اخلاق ملوٹ جاتے ہوئے برفباری کے دوران راستے میں دل کا دورہ پڑنے سے جان کی بازی ہار گئے۔۔
زرائع کے مطابق شدید برفباری کے دوران راستے میں جاتے ہوئے شوکت محمود کو ہارٹ اٹیک ہوا جس کے بعد برف میں ہی کئی گھنٹے پڑے رہے
وہاں قریب ہی مقامی افراد نے برف میں ایک شخص کو مردہ حالت میں دیکھا تو فوری لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پہنچ گئی ۔
شوکت محمود کی شناخت کے بعد انہیں ملوٹ منتقل کیاگیا ہے جہاں انہیں آج سپرد خاک کردیا گیا ۔ایک شخص کی ہلاکت کے باوجود انتظامی نااہلی کا سلسلہ جاری ہے،
جہاں ملوٹ بیس بگلہ روڈ چار روز گزرنے کے باوجود تاحال بحال نہ کی جاسکی۔متاثرہ علاقوں میں بجلی بھی بحال نہیں کی جا سکی جبکہ سڑک سے برف ہٹانے کا آپریشن روک دیا گیا اور مشینری واپس بلا لی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت، حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر کو ہوگا،محسن نقوی
تازہ برفباری دوبارہ شروع ہونے سے درجنوں شہری مختلف علاقوں میں پھنس گئے جبکہ علاج کی غرض سے مریضوں کو علاقے سے منتقل نہ کیا جا سکا۔
ذرائع کے مطابق محکمہ شاہرات کی مشینری نے نعمان پورہ سے رنگلہ روڈ تک برف ہٹانے کا کام شروع کیا تھا، تاہم ملوٹ کے قریب پہنچتے ہی مشین کو واپس بلا لیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل 2026 : پلیئر آکشن سسٹم کا مکمل طریقۂ کار سامنے آ گیا
محکمہ شاہرات کے حکام کا کہنا ہے کہ مشینری محدود ہے اور بھاری مشینری اس وقت تین بڑی شاہراہوں پر برف ہٹانے کے کام میں مصروف ہے۔
ایکسئن شاہرات کے مطابق ملوٹ روڈ پر نجی مشینری ہائر کرکے لگائی گئی تھی، تاہم اس مشینری کی پراگرس صفر رہی جس کے باعث اسے واپس بلا لیا گیا۔
محکمہ شاہرات کے مطابق اس وقت سرکاری مشینری سدھن گلی، لسڈنہ اور دھیرکوٹ میں برف ہٹانے کے کام میں مصروف ہے اور 18 گھنٹے مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکہ میں برفانی طوفان کے باعث پروازیں منسوخ، 850,000 سے زائد گھر بجلی سے محروم
حکام کا کہنا ہے کہ اگر برفباری کا دوسرا اسپیل شروع نہ ہوتا تو یہی مشینری ملوٹ روڈ پر منتقل کر دی جاتی۔
دوسری جانب ملوٹ یونین کونسل تھب کے گاؤں اپر کری کے رہائشی شوکت محمود عرف راجہ اخلاق کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔
نمازِ جنازہ میں مقامی افراد نے شرکت کی، تاہم سڑکیں بند ہونے کے باعث شوکت محمود کے کچھ اہلخانہ اور رشتہ دار جنازے میں شرکت نہ کر سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کا نیا ریکارڈقائم
شوکت محمود اسلام آباد میں ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے اور اپنے اہلخانہ کے واحد کفیل تھے۔ ان کا ایک بیٹا معذور ہے جبکہ اہلیہ کو حال ہی میں فالج کا اٹیک ہوا تھا جس کے باعث وہ بھی معذور ہیں۔
شوکت محمود کے چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ کی تیمارداری کے لیے گاؤں جا رہے تھے کہ ملوٹ کے قریب برفانی طوفان کی زد میں آ گئے۔
ان کی لاش بعد ازاں ملوٹ کے قریب کالا بن کے مقام سے ملی۔ علاقہ مکینوں نے حکومت سے شوکت محمود کے اہلخانہ کے لیے مالی امداد کی اپیل کی ہے۔




