’ ٹرمپ تنازعِ کشمیر کو بھی بورڈ میں لا سکتے ہیں‘: غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پرانڈیا کی ’اُلجھن‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیرِ نو سے متعلق قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے انڈیا کو بھی باضابطہ طور پر دعوت دی ہے۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا انڈیا اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں، جس کے باعث عالمی سفارتی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس بورڈ کا بنیادی مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنیادوں پر قائم رکھنا ہے، جبکہ فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی بھی اسی بورڈ کے دائرہ کار میں شامل ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر استحکام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی اُن عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنہیں صدر ٹرمپ نے اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ اس کے باوجود جمعرات کے روز جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کا باضابطہ آغاز کیا تو انڈیا ان ممالک میں شامل نہیں تھا جو اس تقریب میں موجود تھے، جسے سفارتی سطح پر ایک نمایاں پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دستخطی تقریب، صدرٹرمپ کا فیلڈ مارشل کی طرف اشارہ، مسکراہٹ کیساتھ خیر مقدم

صدر ٹرمپ کی دعوت قبول کرنے والے ممالک میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان ممالک کی شمولیت نے بورڈ کی بین الاقوامی حیثیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق مجموعی طور پر 59 ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے دستخط کیے ہیں، تاہم سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران منعقد ہونے والی تقریب میں صرف 19 ممالک کے نمائندے شریک ہو سکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپ دُنیا کے سب سے طاقتور لوگ ہیں۔ اس میں آذربائیجان سے لے کر پیراگوئے اور ہنگری تک کے ممالک شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف امریکہ کے لیے نہیں، بلکہ پوری دُنیا کے لیے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر پھیلا سکتے ہیں، جیسا کہ ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: گرین لینڈ نقشہ امریکی پرچم کیک، ری پبلکنز تقریب میں ٹرمپ کے تیسرے دور اقتدار کی حمایت

Scroll to Top