ڈیوس(کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت تقریب میں عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکزبنی رہی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب کے دوران خصوصی طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسکراہٹ کے ساتھ خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیئے
دوسرے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ دستخطی تقریب میں وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چارٹر پر دستخط کیے اور امریکی صدر سے مصافحہ اور گفتگو کی۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور حماس نے غیر مسلح ہونے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اگر اس نے ہتھیار نہ چھوڑے تو ’ان کا خاتمہ کر دیا جائے گا‘۔
صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اس دن کو ’’انتہائی پُرجوش اور طویل عرصے سے تیاری میں رہنے والا دن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک ان کے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ اب تک 8 جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور ایک اور بڑا معاہدہ بہت جلد ہونے جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یوکرین جنگ کو سب سے مشکل مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ تنازع ہے جسے وہ آسان سمجھ رہے تھے مگر یہ سب سے پیچیدہ ثابت ہوا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر :بارش،برفباری کا سلسلہ شروع، ایس ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے کروڑوں جانیں بچیں۔
انہوں نے کہا کہ 8 جنگیں ختم کرنے کے بعد کئی عالمی رہنما ان کے دوست بن چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیوس میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے بعد آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی حالیہ خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر کشیدگی میں واضح کمی آئی ہے۔ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی تعریف کی
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور اپنے اعلانات پر جلد عملدرآمد کروائیں،محسن عزیز
دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ ان کے مطابق ایران اب مذاکرات کا خواہاں ہے اور امریکا سے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے شام میں داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کو درپیش سکیورٹی خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل دنیا شدید بحران کا شکار تھی، تاہم اب حالات نسبتاً بہتر اور مستحکم ہو رہے ہیں۔
اسی موقع پر صدر ٹرمپ نے اپنے مجوزہ عالمی فورم ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس فورم کا مقصد بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق 59 ممالک مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں شامل ہیں اور کئی عالمی رہنما اس فورم کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے ڈیوس میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط بھی کیے۔ اس موقع پر بحرین اور مراکش کے رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
صدر ٹرمپ نے دستاویزات پر دستخط کرنے کے بعد انہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا، جس کے بعد دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی باری باری آ کر چارٹر پر دستخط کیے۔
غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار ترک نہ کیے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اقوامِ متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔




