سر درد کے علاج کے لیے اپنایا گیا ایک خطرناک طریقہ چین کے مشرقی صوبے جیانگسو سے تعلق رکھنے والی 50 سالہ خاتون کی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن گیا۔
رپورٹ کے مطابق خاتون، جن کا نام لیو بتایا گیا ہے، شدید سر درد کے باعث ایک روایتی عقیدے پر عمل کرتے ہوئے کچی مچھلی کا پِتّہ بطور دوا نگل بیٹھی تھیں، جس کے نتیجے میں ان کی حالت اچانک بگڑ گئی اور انہیں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کرنا پڑا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ خاتون اس عقیدے پر یقین رکھتی تھیں کہ مچھلی کا پِتہ جسم کی گرمی ختم کرنے، زہریلے مادے خارج کرنے اور آدھے سر کے درد میں فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اسی تصور کے تحت انہوں نے 14 دسمبر کو مقامی مارکیٹ سے تقریباً ڈھائی کلوگرام وزنی گراس کارپ مچھلی خریدی۔ گھر پہنچنے کے بعد انہوں نے مچھلی کا پِتہ نکالا اور بغیر کسی تیاری یا پکانے کے اسے نگل لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم پاکستان نے آزادکشمیر عوام کیلئے مفت صحت کارڈ کا اجراء کردیا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کے صرف دو گھنٹے بعد خاتون کو شدید طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں مسلسل قے، شدید اسہال اور پیٹ میں ناقابلِ برداشت درد شروع ہو گیا۔ حالت بگڑنے پر اہل خانہ نے تاخیر کیے بغیر انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے تفصیلی معائنہ کے بعد مچھلی کے پِتہ سے زہر خورانی اور شدید جگر فیل ہونے کی تشخیص کی۔
ڈاکٹروں کی ہدایت پر مریضہ کو فوری طور پر جیانگسو یونیورسٹی سے وابستہ اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔ وہاں انہیں پلازما ایکسچینج تھراپی دی گئی جبکہ مسلسل گردوں کی صفائی کا عمل بھی جاری رکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پانچ روز تک جاری رہنے والے انتہائی علاج کے بعد خاتون کی حالت میں نمایاں بہتری آئی، جس کے بعد انہیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس واقعے کی باضابطہ تصدیق 7 جنوری کو اسپتال انتظامیہ کی جانب سے کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بادام دل،بلڈپریشراورنظامِ ہاضمہ،شوگر کنٹرول کیلئے مفید
علاج کرنے والے معالج ڈاکٹر نے خبردار کیا کہ مچھلی کا پِتّہ نہایت زہریلا ہوتا ہے اور اس کے اثرات انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق چند گرام مقدار بھی جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہوتی ہے جبکہ بڑی مچھلیوں کا پِتہ بعض صورتوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹروں نے مزید بتایا کہ مچھلی کے پِتہ کو پکانے یا شراب میں بھگونے سے بھی یہ محفوظ نہیں ہو جاتا۔ طبی ماہرین نے عوام کو توہم پرستانہ اور غیر سائنسی علاج سے اجتناب کرنے اور کسی بھی بیماری کی صورت میں مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔




