سعودی عرب ایران کیخلاف امریکا کے فوجی حملے کا حصہ بنے گا یا نہیں، اس سلسلے میں سعودی حکومت کا اہم فیصلہ سامنے آگیا ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق سعودی عرب نے تہران کو یقین دہانی کرادی ہے کہ وہ ایران کیخلاف کسی فوجی حملے کا حصہ نہیں بنیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو ایک اور تنبیہ،تہران نے بھی امریکی اتحادیوں کو خبردار کردیا
سعودی عرب نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اس کیخلاف کسی امریکی کارروائی کا حصہ نہیں بنےگا۔
فضائی حدود کے استعمال سے متعلق سعودی میڈیا نے مزید بتایا کہ سعودی عرب امریکی حملے میں اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران کو نشانہ بناتا ہے تو ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا ایران میں جاری احتجاج میں مداخلت کرنے کی دھمکیوں پر عمل کرتا ہے تو ایران امریکی اڈوں پر حملہ کردے گا۔
سینئر ایرانی حکام نے کہا کہ تہران نے علاقائی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایران پر حملہ کرنے سے روکیں۔
ادھربرطانوی خبر ایجنسی نے مغربی فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ایران پر عنقریب حملہ ہو سکتا ہے جبکہ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مغربی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ غیر متوقع اقدامات امریکی عسکری حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اسی لیے صورتحال کو جان بوجھ کر غیر واضح رکھا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی سفارتی سطح پر بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران سے اپنا تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے جبکہ برطانوی سفیر کو بھی تہران سے وطن واپس طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ممکنہ فوجی کارروائی سے جوڑا جا رہا ہے۔
ادھراسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملہ کچھ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے کیونکہ اب تہران سے مظاہرین کی ہلاکتوں کی خبروں میں کمی آ گئی ہے۔
امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسپین، پولینڈ، اٹلی، بھارت سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ ٹرمپ انتظامیہ کا سخت اقدام: ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ
علاقائی سطح پر بھی خطرے کی فضا برقرار ہے اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں واقع امریکی ایئر بیسز سے فوجیوں کا انخلا شروع ہو چکا ہے۔




