فضاء خورشید کیس میں اہم پیشرفت ، پولیس چالان میں ڈاکٹرز وطبی عملہ غفلت کا مرتکب قرار

راولاکوٹ: فضاء خورشید کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور پولیس نے عدالت میں چالان پیش کر دیا ہے۔

کھائیگلہ کی رہائشی 14 سالہ طالبہ فضاء خورشید کی مبینہ طبی غفلت کے باعث ہلاکت کے کیس میں پولیس نے اہم پیشرفت کرتے ہوئے عدالت میں چالان پیش کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فضاء خورشید کیس، ورثاء کا جوڈیشل کمیشن رپورٹ منظرعام پر لانے کا مطالبہ

پولیس کی جانب سے پیش کئے گئے چالان میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو مبینہ غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

اس سے قبل آزاد کشمیر ہائی کورٹ بھی اس مقدمہ میں کارروائی کا حکم جاری کر چکی ہے جبکہ ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت نے ورثاء سے میرٹ پر چالان پیش کرنے کی یقین دہانی کر رکھی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق چالان 8 جنوری کو عدالت میں جمع کروایا گیا جبکہ 10 جنوری کو عدالت نے ملزمان کو طلب کیا ۔

ڈاکٹر آمنہ نواز عمرہ کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک ہونے کے باعث پیش نہ ہو سکی ہیں تاہم دیگر ملزمان بذریعہ وکیل راجہ اعجاز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت مقدمہ کی مزید سماعت 18 جنوری کو کریگی۔

چالان میں پوسٹ گریجویٹ لیڈی ڈاکٹر فریال مسعود، طیبہ دلشاد، ڈاکٹر آمنہ نواز اور نرس انیسہ عشیر کو واقعہ کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جس میں ورثاء سردار محمد اشرف خان و دیگر نے مضبوط موقف اپناتے ہوئے ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کے خلاف قانونی جنگ لڑی اور مقدمہ درج ہوا۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ہسپتال میں ٹرینی ڈاکٹرز اپنی مرضی سے مریض چیک کرتے رہے جبکہ ان کے ساتھ تعینات میڈیکل آفیسر موجود نہیں ہوتا۔

یاد رہے کہ کوئیاں کھائی گلہ کی رہائشی 14 سالہ فضاء خورشید ستمبر 2024 میں معمولی طبی خرابی کے باعث راولاکوٹ کے شیخ زید/سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کی گئی تھیں جہاں اہل خانہ کے مطابق مبینہ طور پر غلط انجکشن لگائے جانے کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

واقعہ کے بعد پولیس نے مقدمہ نمبر 229/2024 درج کرتے ہوئے پانچ خواتین ڈاکٹرز دو نرسوں اور ایک مرد ڈاکٹر کو نامزد کیا تھا۔

جون 2025 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج راجہ یوسف ہارون نے ملزمان کی عبوری ضمانت منسوخ کرتے ہوئے تین ملزمان (دو لیڈی ڈاکٹرز اور ایک نرس) کو گرفتار کیا گیا تاہم بعد ازاں ان کی ضمانت منظور ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: فضا خورشید کیس، ڈاکٹرز اور نرس گرفتار، ساتھیوں کی گرفتاری پر تمام ڈاکٹرز احتجاجاًمستعفی

اس کیس کی آزادانہ تحقیقات کے لیے مارچ 2025 میں حکومت نے جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا جس کی سربراہی سیشن جج ارباب اعظم نے کی محکمہ صحت نے بھی انکوائری رپورٹ پیش کی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیشن نے مکمل تحقیقات کر لی تھی جو پیش کرنے میں تاخیر کی جا رہی تھی ورثاء نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ذمہ داری کا تعین ہو چکا ہے تو رپورٹ سامنے لائی جائے تا کہ قصورواروں کو سزا مل سکے۔

Scroll to Top