حویلی گرلز کالج کی طالبات

انتظامیہ کی یقین دھانی کے باوجود طالبات کا احتجاج غیر ضروری تھا،شائلہ کوثر راٹھور

حویلی کہوٹہ(کشمیر ڈیجیٹل، سعد بخاری) حویلی یونیورسٹی کی طالبہ شائلہ کوثر راٹھور نے کہا کہ جس معاملے پر طالبات سے احتجاج کروایا گیا وہ احتجاج سے پہلے ہی انتظامیہ کی جانب سے تحریری طور پر حل ہو چکا تھا ۔۔

اس حوالے سے انتظامیہ نے طالبات کو باقاعدہ یقین دہانی بھی دی جا چکی تھی اس کے باوجود بلاوجہ احتجاج کرنا نہ صرف غیر ضروری تھا بلکہ اس سے تعلیمی ماحول بھی شدید متاثر ہوا۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وویمن چیمبر آف کامرس بورڈ آف ڈائریکٹرز آزادکشمیرکا اہم اجلاس، ممبر شپ کا اعلان

شائلہ کوثر راٹھور کا کہنا تھا کہ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس صورتحال میں صرف طالبات کو باہر نکالا گیا جبکہ اس دوران اساتذہ ان کے ساتھ موجود نہیں تھے ۔۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر معاملہ واقعی سنجیدہ تھا تو اساتذہ طالبات کے ہمراہ کیوں نہیں تھے مزید یہ کہ ایک گرلز کالج میں طالبات کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن کے تمام ضلعی دفاترمرکزکیساتھ منسلک کرینگے،نظیرالحسن گیلانی

اس لئے اتنی بڑی تعداد میں طالبات کو بغیر کسی مناسب انتظام نگرانی اور تحفظ کے باہر نکالنا کسی بھی طور پر درس دیا قابل قبول عمل نہیں تھا ۔۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف طالبات کو اس طرح باہر لانا نامناسب تھا اور نہ ہی ان کے تحفظ کے سلوک کے مطابق مزید براں اس احتجاج کے نتیجے میں ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوئی جس سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ۔تعلیمی ادارے احتجاج بدنظمی یا عوامی مشکلات کا سبب بننے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ علم تحفظ نظم و ضبط اور مثبت تربیت کے مراکز ہوتے ہیں ۔۔

مسائل کا حل بات چیت صبر اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جاتا ہے نہ کہ طالبات کو سڑکوں پر لا کر حالات کو خراب کرنے سے ایسے اقدامات نہ صرف طالبات کیلئے نقصان دہ ہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں ۔۔

شائلہ کوثر راٹھور طالبہ یونیورسٹی اف حویلی نے کہا کہ حویلی کی ضلعی انتظامیہ سیاسی سماجی شخصیت سول سوسائٹی انجمن تاجران اور طلبہ و طالبات اس معاملے کو بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ حل کریں اور حویلی کی تعمیر و ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

Scroll to Top