صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت نیشنل سکیورٹی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران سے متعلق تیزی سے بدلتی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی، سفارتی حکمت عملی اور ممکنہ آئندہ اقدامات زیر بحث آئے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم آرہے ہیں،ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایرانی مظاہرین کو پیغام
ایک صحافی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ “ایرانی مظاہرین کے لیے مدد آ رہی ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟۔صدر ٹرمپ نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا، “آپ کو خود ہی بات سمجھنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق صورتحال کے حوالے سے تمام معلومات آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آئیں گی، جس سے واضح ہو جائے گا کہ امریکا کس نوعیت کی مدد فراہم کر رہا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ جواب اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ امریکا ایران میں جاری مظاہروں اور عوامی احتجاج کے تناظر میں کوئی اہم اقدامات کرنے والا ہے، اور تفصیلات قریبی مستقبل میں واضح ہوں گی۔
امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تمام سفارتی روابط منقطع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے امکانات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کسی ممکنہ کارروائی کی صورت میں ایران کی اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ مشی گن کے لیے روانہ ہو گئے، تاہم امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے متعلق آج شام کوئی بڑا اور فیصلہ کن اعلان کر سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ ایرانی قیادت کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی سے قبل امریکی عوام سے خطاب کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا گھیرا تنگ،امریکی جنگی طیارے قطر پہنچ گئے،ایئر بیس پر سرگرمیاں تیز
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قوم سے خطاب آج رات متوقع ہے، جس میں ایران سے متعلق امریکی پالیسی، آئندہ لائحہ عمل اور قومی سلامتی کے امور پر اہم نکات سامنے آ سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر اس خطاب کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہےکیونکہ اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سمیت عالمی سیاست پر گہرے ہو سکتے ہیں۔




