سردار یاسر الیاس کی بطور کوآرڈینٹر وزیراعظم پاکستان تقرری چیلنج

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان کی تقرری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

درخواست گزار نے سردار یاسر الیاس خان کی بطور وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیاکہ

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد جموں و کشمیر BISE میرپور نے دسویں جماعت کے نتائج 2025 کا اعلان کر دیا

“سیاحت” جیسا موضوع آئین کے تحت بالترتیب مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اور وفاقی حکومت کے دائرۂ قانون سازی اور انتظامی اختیار میں آتا ہے۔

اسی طرح وفاقی قانون ساز فہرست (FLL) میں بھی سیاحت کا کوئی موضوع وفاقی حکومت کے لیے مختص نہیں ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ولی کی اجازت کے بغیر عدالتی نکاح غیرشرعی،مفتی حنیف قریشی،وزراء کی قانون سازی کی یقین دہانی

مزید یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ اقدام آئین کی خلاف ورزی اور اس کے ساتھ دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔

درخواست گزار نے یہ بھی بتایا کہ آئین اور قواعدِ کار 1973 کے تحت کوآرڈینیٹرز کی تقرری کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں مسلم طلبا سے تعلیم کا حق چھین لیا گیا، ہندوتوا تعصب بے نقاب

درخواست گزار نے مزید مؤقف اختیار کیا ہے کہ سردار یاسر الیاس خان، وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کی جبکہ حکومتِ پاکستان نے تاحال ریاستِ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔

درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ سردار یاسر الیاس خان کو بطور وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت اپنے سرکاری فرائض اور ذمہ داریوں کی انجام دہی سے فوری طور پر روکا جائے۔

توقع ہے کہ اس درخواست کی سماعت کل اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد کے سنگل بینچ کے روبرو ہوگی۔

ڈاکٹر جی۔ ایم۔ چوہدری، ایڈووکیٹ، وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان، عدالت میں درخواست گزار کی نمائندگی کریں گے۔

Scroll to Top