مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)سابق وزیر حکومت ، ن لیگ کے رہنما سید شوکت علی شاہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نام پر اختیار کیا گیا طرزِ عمل محض احتجاج نہیں
بلکہ ریاستی نظام کو کمزور کرنے کی منظم سازش ہےجو کسی صورت قابل قبول نہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایم این اے علی موسی گیلانی کا آئی فون17چوری،ملزم گرفتار
اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کے نام پر اداروں کو متنازع بنانا اور سڑکوں کی سیاست کے ذریعے دباؤ ڈالنا افسوسناک امر ہے۔
سابق وزیرحکومت کا کہنا تھا کہ دراصل ایک آئینی نظام کے خلاف سازش ہے جس کا خمیازہ بالآخر عوام ہی کو بھگتنا پڑتا ہے
شوکت علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس سازش کا شکار خود شوکت نواز میر اور راجہ امجد ایڈووکیٹ بھی ہوں گے جس کا انہیں آج اندازہ نہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مسلح افواج ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت کیلئے پرعزم ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں سیاسی و پارلیمانی سسٹم اور سارا حکومتی نظام آزادخطے کے عوام کے سیاسی و جمہوری وقار کی علامت ہے جو بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا
آج جو گالم گلوج اور سیاستدانوں کی تضحیک کا عمل جاری ہے یہ کسی خاص ایجنڈے اور پس پردہ کسی بڑی سازش کا پتا دے رہا ہے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے نازک وقت میں جب پاک فوج معرکۂ حق میں تاریخی کامیابیاں سمیٹ کر نہ صرف پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا چکی ہے
مزید یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق کی تاریخی کامیابی نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنادیا، ڈاکٹر آصف کرمانی
تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو ایک نئی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی قوت فراہم ہوئی ہے،
آزاد خطے میں اندرونی انتشار پیدا کرنا دراصل دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
پاک فوج کی قربانیاں اور فتوحات کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی توانا آواز ہیں، نہ کہ اسے کمزور کرنے کا ذریعہ۔
انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنا اور متوازی قوتیں کھڑی کرنا نہ جمہوریت ہے اور نہ ہی تحریکِ آزادی کے مفاد میں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انتشار نہیں، اتحاد کو فروغ دیں؛ نظام کو مفلوج نہیں، مضبوط کریں؛ اور دشمن کو یہ پیغام دیں کہ کشمیری قوم اپنے محسنوں اور محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے۔




