عثمان خواجہ آخری ٹیسٹ کو یادگار نہ بناسکے،رقت آمیز مناظر کیساتھ رخصت

سڈنی :آسٹریلیا کے کامیاب بلے بازوں میں شامل پاکستانی نژاد عثمان خواجہ اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے آخری میچ کو یادگار نہ بناسکے۔

سڈنی میں کھیلے گئے ایشیز سیریز کے آخری میچ میں آسٹریلوی ٹیم نے 5 وکٹوں سے فتح حاصل کی تاہم عثمان خواجہ بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

عثمان خواجہ جب آخری مربتہ بیٹنگ کرنے کے لیے میدان میں آئے انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

کریز پر پہنچنے پر ساتھی کھلاڑی مارنس لبوشین نے گلے لگا کر ان کا استقبال کیا۔عثمان خواجہ پہلی اننگ میں 17 اور دوسری اننگ میں صرف 6 رنز بناسکے۔

آؤٹ ہوکر واپس جاتے ہوئے انہوں نے میدان میں سجدہ شکر بھی ادا کیا۔ اس دوران ان کی اہلیہ ریچل خواجہ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔

عثمان خواجہ کے اہلخانہ سمیت مداحوں کی جانب سے بھی انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیموں کا اضافہ، نیلامی کامیدان سج گیا

واضح رہے کہ عثمان خواجہ نے آسٹریلیا کے لیے 88 ٹیسٹ میچز میں 16 سنچریز اور 28 نصف سنچریز کی مدد سے 6229 رنز بنائے۔

عثمان خواجہ نے گزشتہ دنوں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کے اعلان میں نسلی امتیاز کا شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان اور پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیمیں حیدرآباد اور سیالکوٹ شامل

عثمان خواجہ جب آخری مربتہ بیٹنگ کرنے کے لیے میدان میں آئے انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ کریز پر پہنچنے پر ساتھی کھلاڑی مارنس لبوشین نے گلے لگا کر ان کا استقبال کیا۔

عثمان خواجہ پہلی اننگ میں 17 اور دوسری اننگ میں صرف 6 رنز بناسکے۔

39 سالہ عثمان خواجہ سڈنی میں اپنا 88 واں اور آخری ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے۔ 15 برس قبل اُنھوں نے اسی گراونڈ میں انگلینڈ کے خلاف ہی اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔

اس میچ میں وہ جوش ٹنگ کی گیند پر صرف چھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے اور یوں آسٹریلیا نے سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کرتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف پانچ میچز کی ایشیز سیریز چار ایک سے جیت لی۔

تاہم خواجہ کو ایک آخری بار سلامی لینے کا موقع ملا۔ انگلینڈ کی ٹیم نے ملک اور کھیل کے لیے اُن کی 88ویں ٹیسٹ خدمات کے اعتراف میں کریز تک آتے وقت انھیں گارڈ آف آنر دیا اور خواجہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس سے مصافحہ کیا۔

آؤٹ ہونے کے بعد انھوں نے ہیلمٹ اور دستانے اتارے، بیٹ بلند کیا اور پانچویں دن ایس سی جی میں موجود 25,847 تماشائیوں کی کھڑے ہو کر دی جانے والی داد سمیٹی۔

اس کے بعد ایک آخری علامتی لمحہ آیا۔ آسٹریلیا کے پہلے مسلم ٹیسٹ کرکٹر کے طور پر انھوں نے آؤٹ فیلڈ پر بنے اس سائن کے پاس سجدہ کیا جس پر لکھا تھا: ’شکریہ اُزی #419‘

میچ کے بعد فاکس کرکٹ سے بات کرتے ہوئے خواجہ نے کہا کہ ’میرا دل چاہتا تھا کہ میں رنز بناؤں اور جیت کے آخری رنز بھی خود ہی بناؤں

لیکن میں اس بات پر خوش اور شکر گزار ہوں کہ ہمیں آخری میچ میں کامیابی ملی اور میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ اسے منا سکا۔‘

Scroll to Top