پاکستان میں درآمدی موبائل فونز سستے ہونے کے امکانات!

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی ہے، جس سے صارفین کو جدید سمارٹ فونز خریدنے میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔

پی ٹی اے حکام کے مطابق موجودہ ٹیکس پالیسی کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد جدید اور معیاری موبائل فونز سے محروم ہے، اور اس پر عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے وفاقی حکومت کو تفصیلی سفارشات ارسال کی ہیں، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ موبائل فون اب محض ایک لگژری آئٹم نہیں بلکہ تعلیم، کاروبار، ڈیجیٹل بینکنگ، آن لائن روزگار اور دیگر روزمرہ ڈیجیٹل خدمات کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ ایسے میں بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز نے عام صارف کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔

پی ٹی اے حکام نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی وطن واپسی پر اپنے ذاتی استعمال کے لیے موبائل فون لانے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ زیادہ ٹیکسوں کی وجہ سے ایئرپورٹس پر فون رجسٹریشن ایک مہنگا اور پیچیدہ مرحلہ بن چکا ہے، جس پر اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بارہا شکایات موصول ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آسان قسطوں پر موبائل فون حاصل کرنے کا نادر موقع سامنے آگیا

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اگر موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں میں مناسب اور متوازن کمی کی جائے تو نہ صرف عوام کو فوری ریلیف ملے گا بلکہ موبائل فونز کی قانونی درآمد میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس اقدام کے نتیجے میں 2026 میں پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتوں میں واضح کمی متوقع ہے۔

ماہرین نے کہا کہ بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس سے سمگلنگ اور غیر قانونی فونز کا استعمال بڑھ رہا ہے، اور یہ نہ صرف صارفین بلکہ قومی خزانے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ ٹیکسوں میں کمی سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی اور طویل المدت بنیادوں پر حکومت کے ریونیو میں بھی اضافہ ممکن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:سال 2025 کے بہترین بیٹری لائف سمارٹ فونز کی فہرست جاری

پی ٹی اے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ یا 2026 کی پالیسی سازی کے دوران موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے گی۔ اگر پی ٹی اے کی سفارشات منظور کر لی جائیں تو آئندہ برس پاکستانی صارفین جدید موبائل فونز نسبتاً کم قیمت پر خریدنے کے قابل ہو سکیں گے، جس سے ڈیجیٹل ترقی اور عوامی سہولتوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔