وینزویلا کی اپوزیشن سیاستدان اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریہ کورینا نے صدر نکولس مدورو کی گرفتاری پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا میں عوامی حکومت کے قیام کا وقت آ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں عوام کی آواز کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
انٹرنیٹ پر وینزویلا کے عوام کے نام کھلے خط میں ماریہ کورینا نے اپوزیشن لیڈر ایڈمنڈو گونزالیز کی ملک کے نئے لیڈر کے طور پر حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گونزالیز کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اور اب وینزویلا کی قیادت سنبھالنے کا حق بھی انہیں ہی حاصل ہے۔ ماریہ کورینا کے مطابق صدر نکولس مدورو کو اب بین الاقوامی انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔
کھلے خط میں انہوں نے کہا کہ اب وینزویلا میں امن ہوگا اور سیاسی قیدی رہا کیے جائیں گے۔ ماریہ کورینا نے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ 2024 کے انتخابات میں حقیقی کامیابی ایڈمنڈو گونزالیز نے حاصل کی تھی، جسے عوامی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول یہ کامیابی وینزویلا کے عوام کی خواہشات کی عکاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائب صدر پی ٹی آئی ذیشان حیدر کی ماریہ کورینا مچاڈو کونوبیل انعام ملنے پرمبارکباد
ماریہ کورینا کا کہنا تھا کہ گونزالیز کو فوری طور پر اپنی آئینی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے تاکہ ملک میں استحکام اور سیاسی عمل کی بحالی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اقتدار کی منتقلی وینزویلا کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے ہفتے کو وینزویلا پر حملہ کیا اور امریکی ڈیلٹا فورس وینزویلا کے صدر مدورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے اٹھا کر لے گئی۔ اس واقعے کے بعد وینزویلا کی سیاسی صورتحال میں غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جس کے اثرات ملک کی سیاست اور عوامی منظرنامے پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ماریا کورینا مچادو نے نوبیل امن انعام وینیزویلا کے عوام اورصدر ٹرمپ کے نام کر دیا
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وینزویلا میں سیاسی بے یقینی طویل عرصے سے موجود تھی۔ ماریہ کورینا کے بیانات اور کھلے خط کو اپوزیشن کی جانب سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں عوام کو مستقبل کی سمت سے آگاہ کیا گیا ہے۔




