سعودی عرب: غیرملکی شہریوں سے نکاح کے نئے ضوابط، شرائط منظور

جدہ(کشمیر ڈیجیٹل) سعودی عرب میں وزیرانصاف ولید الصمعانی نے مملکت میں غیرملکیوں کیساتھ مطلوبہ اجازت کے بغیر کئے جانیوالے نکاح معاہدوں سے متعلق نئے ضوابط کی منظوری دیدی ۔

سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نئے ضوابط کے تحت سعودی شہری کی غیرملکی خاتون اور غیرملکی مرد کی سعودی خاتون سے شادی کی شرائط اور نکاح نامے کے اندراج میں سہولت فراہم کردی گئی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ٹیلی نار کا انتظام سنبھال لیا

رپورٹس کے مطابق نئے ضوابط کے تحت سعودی اور غیرملکی شہری کے درمیان اجازت نامے کے بغیر کئے گئے نکاح معاہدے سول سٹیٹس کورٹ میں پروسیس کیے جائیں گے۔

اس نئے فیصلے کا مقصد خاندانوں کو مستحکم کرنا،جوڑے سے متعلق بعض مسائل کا حل،نکاح اور اس سے متعلق پروسیجر کو وزارت انصا ف کے طریقہ کار کے مطابق قانونی طور پر دستاویزی شکل دینا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کینیڈا جانے کے خواہشمندہنرمندافراد کیلئے زبردست آفر

سعودی شہریوں کی غیرملکیوں سے شادی کے نئے طریقہ کار کے مطابق نکاح نامے کی عدالت میں رجسٹری کے لیے ضروری ہو گا کہ دی گئی درخواست وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بعد عدالت میں جمع کرائی جائے۔

وزارت کی جانب سے این او سی حاصل کیے جانے کے بعد باقی کارروائی مکمل کی جائے گی۔ ایسے نکاح نامے کی رجسٹریشن قابل قبول نہیں ہو گی جس میں قانون کی شق 9 اور 11 کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔

مزید یہ بھی پڑھیں:دنیا بھر میں چکن گونیا کے لاکھوں کیسز رپورٹ، 186 افراد ہلاک

یہ دونوں شقیں ایسے افراد کے بارے میں ہے جن کی عمر 18 برس سے کم ہو یا کوئی ایک فریق دماغی مرض (پاگل پن) میں مبتلا ہو اس صورت میں شادی کو رجسٹر نہیں کیا جائے گا۔

قانون کی شق 11 میں کی گئی وضاحت میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ عدالت اس بات کی مجاز ہو گی کہ وہ پاگل یا ذہنی طورپر کمزور شخص سے اس کے سرپرست کی درخواست پر شادی کی اجازت دے سکتی ہے۔

Scroll to Top