مظفرآباد ؛ریاستی دارالحکومت کے تھانہ پولیس صدر نے آٹا سمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف اہم کارروائی کرتے ہوئے مظفرآباد سے سوات جانے والے تین ٹرک ضبط کر لیے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران ٹرک ڈرائیوروں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس کے مطابق ضبط کیے گئے ٹرکوں میں 2900 سے زائد آٹے کے بیگز لوڈ تھے جو مظفرآباد سے خیبرپختونخوا کے ضلع سوات سمگل کیے جا رہے تھے۔
اس حوالے سے درج ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بیرونِ ریاست آٹا لے جانے پر پہلے ہی پابندی عائد ہے جس کے باوجود سمگلنگ کی کوشش کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی جبکہ آٹے کی ترسیل میں ملوث دیگر عناصر کی نشاندہی کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فارورڈ کہوٹہ میں دکانداروں کی ذخیرہ اندوزی کے باعث آٹا ناپید : غریب عوام پریشان
حکام کے مطابق یہ اقدام سبسڈی والے آٹے کی غیرقانونی ترسیل روکنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ مقامی عوام کو قلت اور مہنگائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تاہم بعد ازاں گرفتار شدہ ڈرائیور اور دیگر عملے کو عدالت سے شخصی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور آٹا سمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے واضح کیا ہے کہ آٹے سمیت اشیائے خورونوش کی سمگلنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ آزادکشمیر میں آٹا2ہزار روپے من ہے جس کی وجہ سے مافیا بڑے پیمانے پر سرکاری آٹاسمگل کرکے 4 گنا ریٹ پر فروخت کرتا ہے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں عموماً آٹے کا بحران بھی پیدا ہوجاتاہے۔




