اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، پاکستان نے دریائے چناب میں پانی کی کمی پر بھارت سے وضاحت طلب کر لی۔
پاکستان نے دریائے چناب میں پانی کی غیرمعمولی کمی کے بعد بھارت سے باضابطہ رابطہ کیا۔ اور وضاحت طلب کی۔ وزارت آبی وسائل کے مطابق پاکستانی کمشنر برائے سندھ طاس نے یہ معاملہ بھارتی حکام کے سامنے اٹھایا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:تین ہزار سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ، سعودی عرب،یو اے ای سرفہرست
پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ڈیڈ اسٹوریج کو خالی کرنا ممنوع ہے۔ اور ایسا کرنا معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہو گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی، مضرصحت آٹے کی ترسیل، شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا،وزیراعظم سے نوٹس لینے مطالبہ
وزارت کے مطابق 17 دسمبر سے دریائے چناب کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آنا شروع ہوئی۔ جبکہ محکمہ آبپاشی کی جانب سے دریا کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد،راولپنڈی میں دفعہ 144 میں ایک بار پھر توسیع، نوٹیفکیشن جاری
حکام کے مطابق مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ دوبارہ معمول کی سطح کی طرف آ رہا ہے۔ تاہم 10 تا 16 دسمبر کے دوران چناب میں گزشتہ 10 سال کی تاریخی سطح کے مقابلے میں انتہائی کم بہاؤ ریکارڈ کیا گیا۔ جس میں کم ترین بہاؤ 870 کیوسک تک گر گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی شہریوں کابھارت کیخلاف احتجاج دوسرے روز میں داخل
محکمہ انہار کے مطابق مرالہ راوی لنک نہر میں پانی کا بہاؤ مکمل طور پر صفر ہو گیا تھا۔ جبکہ اپر چناب نہر میں پانی کا بہاؤ 6 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اور دریائے چناب میں پانی روکے جانے کے بعد دریائے جہلم میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔




