زلزلے

مظفر آباد، مالا کنڈ ، مانسہرہ ، ایبٹ آباد، سری نگر اور مری میں زلزلے کے جھٹکے

مظفر آباد (کشمیر ڈیجیٹل ) مظفر آباد سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔

اس کے علاوہ مالا کنڈ ، مانسہرہ ، ایبٹ آباد، سری نگر، مری اور پشاور میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے شدت 4اعشاریہ 2 ریکارڈ کی گئی ۔ زلزلے کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے ۔

زلزلہ پیما کے مطابق زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی ۔ زلزلے کا مرکز بالاکوٹ کے جنوب مشرق میں 10 کلومیٹر دور تھا ۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ۔

زلزلے کیوں آتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے ۔

زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں ۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے ۔

زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے ۔

زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے ، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے ۔

دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ زلزلے بحرالکاہل کے کناروں پر ہوتے ہیں جسے رنگ آف فائر یعنی آگ کا دائرہ کہا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں زمین کے اندر آتش فشانی سرگرمی بہت زیادہ ہوتی ہے ۔

اس کے علاوہ زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں، جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں ۔ ٹیکٹونک پلیٹیں وہ پتھریلی چٹانیں ہیں جن سے زمین کی باہر والی تہ بنی ہوئی ہے ۔

ان پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے ۔

جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جو جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں ۔

Scroll to Top