مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)جہلم ویلی کے علاقے دچھور میراں میں قائم گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کی عمارت 2005 کے زلزلے میں تباہ ہو گئی تھی۔
عمارت کی تعمیرِ نو کا کام 2008 میں شروع کیا گیا، تاہم 17 سال گزر جانے کے باوجود یہ تعمیر تاحال مکمل نہ ہو سکی۔
بچے خون جما دینے والی سردی میں پتھروں اور کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور۔نامکمل عمارت کے باعث سکول کے درجنوں بچے آج بھی کھلے آسمان تلے، خون جما دینے والی سردی میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
شدید موسم میں بغیر چھت کے بیٹھ کر پڑھنا نہایت مشکل ہو چکا ہے جبکہ بارش اور سرد ہواؤں کے دوران کلاسز اکثر متاثر ہوتی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردی کی شدت، آزادکشمیر حکومت کی ایڈوائزری جاری
سکول کے موجودہ صدر معلم نے بتایا کہ تعمیراتی کام بارہا رکا اور طویل عرصے سے کسی بھی متعلقہ محکمے کی جانب سے پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
طلباء کا کہنا ہے کہ متعدد بار توجہ دلانے کے باوجود اسکول کی عمارت مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
سابق صدر معلم اور ریٹائرڈ ڈائریکٹر تعلیم نے بھی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اتنے برس گزرنے کے باوجود منصوبہ نامکمل رہنا بچوں کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمارت کی تعمیر کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔علاقہ مکینوں اور والدین نے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے واحد ہائی سکول کی عمارت مکمل نہ ہونے سے بچوں کی تعلیم مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
والدین کا مطالبہ ہے کہ تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کر کے بچوں کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے۔




