پاکستانی نوجوان کی محبت نے پولینڈ کی خاتون کو سرگودھا تک پہنچا دیا، جہاں انہوں نے فیملی کورٹ میں مطیع اللہ سے نکاح کیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام مریم رکھا۔
سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے علاقہ منظور حیات کے رہائشی مطیع اللہ نامی نوجوان کے مطابق پولینڈ کی رہائشی خاتون مانگورزانا کی اس سے سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی اور دوستی محبت میں تبدیل ہوگئی۔
مانگورزانا گزشتہ دنوں پاکستان پہنچی اور اس نے بھلوال کی فیملی کورٹ کے جج ثمر حیات کی عدالت میں مطیع اللہ سے شادی بھی کرلی۔ اس سے قبل غیر ملکی خاتون نے جامع مسجد حامد شاہ میں معروف عالم دین قاضی نگاہ مصطفٰی چشتی کے ہاتھوں اسلام قبول کرکے اپنا اسلامی نام مریم رکھ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مولانا ارشد مدنی کے بیان پر سیاسی ہلچل، لیبر قوانین کے خلاف ملک گیر احتجاج
مریم کا کہنا ہے کہ اپنی مرضی سے پاکستان آئی ہوں اور اسلام قبول کیا ہے، اپنے خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، مجھ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں، شادی اور اسلام قبول کرنا سب میری ذاتی خواہش اور مرضی ہے۔
پولینڈ کی خاتون اور پاکستانی نوجوان کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والی دوستی کا رشتہ محبت میں تبدیل ہونا اور پھر اس محبت کا انجام شادی کی صورت میں سامنے آنا اس واقعے کو خاص بناتا ہے۔ خاتون کے مطابق وہ اپنی مرضی سے پاکستان آئی ہیں، اسلام قبول کیا ہے اور اپنی زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ خاتون نے واضح کیا کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا اور شادی سمیت اسلام قبول کرنا ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کیرالا : ٹریفک حادثے کا شکار دلہن نے ہسپتال میں شادی کر لی
مطیع اللہ کے مطابق ان کی سوشل میڈیا دوستی پولینڈ میں رہنے والی مانگورزانا کے ساتھ وقت کے ساتھ گہری ہوتی گئی اور اس رشتے نے انہیں ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ پولینڈ کی مانگورزانا کے پاکستان آنے، اسلام قبول کرنے اور شادی کرنے کے تمام مراحل سرگودھا میں مکمل ہوئے۔




