بچے کی پیدائش کا اعلان مسجد سے کرنے پر والد کیخلاف مقدمہ درج

میاں چنوں میں ایک شہری کے خلاف اس وقت مقدمہ درج کیا گیا جب اس نے اپنے بچے کی پیدائش کی خوشی میں مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئی، کیونکہ اس قانون کے تحت بلند آواز میں یا غیر ضروری طور پر ساؤنڈ سسٹم کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔

پولیس نے بتایا کہ تصور نامی شہری نے مسجد گلزار مدینہ کے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اپنے نومولود بچے کی پیدائش کی خوشی کا اعلان کیا تھا۔ حکام کے مطابق وہ یہ اقدام خوشی میں کر بیٹھا، تاہم قانون کے مطابق مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف مخصوص مقاصد کے لیے کیا جا سکتا ہے جن میں غیر ضروری طور پر خوشی یا ذاتی اعلانات شامل نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کیلئے بڑی خبر آگئی

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ 2015 صوبے میں ساؤنڈ سسٹم کے غلط اور بلند آواز میں استعمال کے خلاف سخت کارروائی کا اختیار دیتا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو چھ ماہ تک قید یا 25 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ پولیس کے مطابق میاں چنوں میں درج ہونے والا یہ مقدمہ اسی قانون کی خلاف ورزی کے تحت درج کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں اوکاڑہ میں بھی اسی قانون کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔ اس واقعے میں پولیس نے معروف گلوکارہ نصیبو لال کا گانا اونچی آواز میں بجانے پر ایک رکشہ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی بھی پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کے مطابق کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:دوہری نیشنلٹی رکھنے والی کویتی خاتون کی شہریت منسوخ کردی گئی

پولیس ترجمان نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ترجمان کے مطابق ساؤنڈ سسٹم کے غلط استعمال کو سنگین خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ساؤنڈ سسٹم سے متعلق قوانین کی پابندی کریں تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top