ایس ڈی جی سے ہم آہنگ پالیسیوں کی طرف جانا ہوگا،ذیشان حیدر

لندن ، مظفرآبا(کشمیر ڈیجیٹل) گلوبل لیڈرشپ یو کے کی جانب سے منعقدہ ایک اہم ٹویٹر اسپیس میں عالمی سطح کے نوجوان کارکنان، پالیسی ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔۔

پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر کے نائب صدر اور یوتھ فورم برائے ایس ڈی جی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید ذیشان حیدر نے ٹیوئٹر سپیس میں گفتگو کی۔

اس سیشن کی میزبانی معروف سماجی رہنما اور گلوبل ایکٹوسٹ نیٹ ورک کی شریک بانی لیموہ چندا نے کی۔ذیشان حیدر نے گفتگو کا آغاز اپنی جدوجہد اور پس منظر سے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ 2005 کے تباہ کن کشمیر زلزلے کے دوران بحالی و ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لینا ان کی زندگی کا وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے انہیں سماجی خدمت، نوجوانوں کے بااختیار بنانے اور پالیسی ریفارمز کی طرف لے گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اگرچہ کرپشن سے آلودہ ہے مگر حقیقی تبدیلی کا سب سے بڑا دروازہ بھی یہی ہے۔

“نوجوان مستقبل کے نہیں، آج کے لیڈر ہیں۔ انہیں فیصلہ سازی اور پالیسی سازی میں برابر کا شریک ہونا چاہیے۔”گفتگو کے مرکزی موضوع “From Vision to Action: Transforming Political Manifestos into SDG-Aligned Policy” پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتوں کو جذباتی منشوروں سے آگے بڑھ کر ٹھوس، قابلِ پیمائش اور ایس ڈی جی سے ہم آہنگ پالیسیوں کی طرف جانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے عملی گورننس، شفافیت اور ڈیٹا بیسڈ فیصلوں کی بنیاد رکھی۔

احساس پروگرام، بلین ٹری سونامی، کامیاب جوان پروگرام اور کلین گرین پاکستان جیسے اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ منشور کس طرح حقیقی منصوبوں میں بدلتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ضلع حویلی میں خاموش طبی انقلاب، جانیں کون ہے اصل ہیرو؟

انہوں نے کہا کہ 2026 کے انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی اے جے کے اسی ماڈل کو اپنا رہی ہے تاکہ ہر وعدہ، ہر منصوبہ اور ہر ترقیاتی اقدام ایس ڈی جی اہداف سے براہِ راست جڑا ہو۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منشور کو ایس ڈی جی سے جوڑنے کے لیے مضبوط فریم ورک، درجہ بند نتائج، واضح ٹائم لائنز اور ایک فعال ڈیلیوری یونٹ ناگزیر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں نوجوانوں کی پالیسی، دیہی ترقیاتی منصوبوں اور 10 ملین ٹری چیلنج جیسے اقدامات اسی جدید طریقہ کار کے ذریعے کامیاب ہوئے۔

انتخابات کے بعد عملدرآمد اور احتساب پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی کا تسلسل صرف حکومت نہیں، پارلیمنٹ، اداروں اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے آزاد کشمیر میں “سِٹیزن اسکورکارڈ” متعارف کرانے کا اعلان کیا جس کے ذریعے عوام براہ راست دیکھ سکیں گے کہ ان کے حلقے میں وعدے کہاں پورے ہوئے اور کون سے رہ گئے۔

Scroll to Top