(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر کی خوبصورت وادیٔ نیلم میں موسمِ سرما کی پہلی بارش اور برفباری کے بعد سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں کو سردی کے اس آغاز کے بعد روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ ہفتے کے دوران وادی کے بالائی علاقوں میں مزید بارش اور برفباری کا امکان ہے، جس سے مقامی افراد اور سیاحوں کے لیے سردی مزید بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب وادیٔ نیلم کے وہ علاقے جو 14 اگست کو نالہ جاگراں میں ہونے والے کلاؤڈ برسٹ سے متاثر ہوئے تھے، اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں سیاحتی مقام کنڈل شاہی واٹر فال اور کٹن جاگراں سمیت 25 ہزار سے زائد آبادی کو ملانے والے رابطہ پل اور سڑکیں تاحال ٹھیک نہیں ہو سکیں، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیڈٹ کالج وانا کلیرنس آپریشن: ایس ایس جی کمانڈو نے تفصیلات بتا دیں
متاثرہ دیہات کے رہائشیوں نے حکومتِ آزاد کشمیر اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں رابطہ پلوں اور سڑکوں کی مرمت اور بحالی کے اقدامات کیے جائیں۔ مقامی افراد نے کہا کہ اگر یہ کام جلد مکمل نہ کیا گیا تو سردیوں کے موسم میں نقل و حمل اور بنیادی سہولیات میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی راہ ہموار، 27ویں آئینی ترمیم آج منظور ہونے کا امکان
محکمۂ موسمیات نے بھی وادیٔ نیلم کے بالائی علاقوں میں آئندہ ہفتے مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر شہریوں اور سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے بروقت اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں سردی کے موسم میں زندگی اور معمولات پر اثر پڑ سکتا ہے۔



