سپریم کورٹ بارکا لائسنس ملنے کی خوشی میں مٹھائی بانٹنے والاوکیل بھی لقمہ اجل بن گیا

اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں واقع جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں مجموعی طور پر 12 افراد شہید ہوئے، ان بدقسمت افراد میں سے زبیر اسلم گھمن بھی تھے جو چند گھنٹے قبل ہی دوستوں کے ساتھ اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔

وہ دھماکے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے اور ان کی خوشی کی مٹھاس اُن کے گھر والوں کیلئے ایک مستقل غم میں بدل گئی۔

زبیر اسلم گھمن سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمد اسلم گھمن کے بیٹے تھے اور وہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار اور ہائی کورٹ بار میں وکیل کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آبادخودکش حملہ کی مذمت،ملزمان کوکٹہرے میں لایا جائے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری عبدالحلیم بوٹو کے مطابق ایڈووکیٹ زبیر اسلم گھمن ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے نفیس اور منجھے ہوئے وکیل تھے جن کی عدالت میں ہر شخص تعریف کرتا تھا۔

چاہے سائلین ہوں، ساتھی وکیل یا ملازمین، وہ سب کے ساتھ احسن انداز میں پیش آتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جانے سے ڈسٹرکٹ بار میں بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زبیر اسلم گھمن کو حالیہ دنوں میں ہی سپریم کورٹ بار کا لائسنس ملا تھا، جس کی وہ خوشی منا رہے تھے اور انہوں نے ساتھی وکلا میں مٹھائی تقسیم کی اور خود بھی کھائی۔

تاہم وہ اس اعتبار سے بدقسمت ثابت ہوئے کہ منگل کی دوپہر 12 بج کر 39 منٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھےاور یہ ان کی زندگی کی آخری خوشی ثابت ہوئی۔

زبیر اسلم گھمن کے گھر میں خوشی اب غم میں بدل چکی ہے،ان کے پسماندگان میں دو بچے بھی شامل ہیں، جن میں نو برس کی ایک بیٹی اور دس سال کا ایک بیٹا ہے، وہ اپنے بابا کی موت پر غم سے نڈھال ہیںجبکہ محمد اسلم گھمن بھی اشکبار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ذریعے بھارت نے اسلام آباد میں دھماکا کروایا، سیکیورٹی ذرائع

محمد اسلم گھمن نے ایک ویب سائٹ کو بتایا کہ ان کے بیٹے کی لاش انہیں موصول ہو چکی ہے اور ان کی نمازِ جنازہ آج بدھ کی صبح 11 بجے الیون قبرستان میں ادا کی جائے گی۔

اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل عبدالعلیم خان نے بتایا کہ ’میں متعدد بار جوڈیشل کمپلیکس کی سکیورٹی سے متعلق پولیس اور متعلقہ افسران کو آگاہ کر چکا ہوںتاہم ہمارے مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

جوڈیشل کمپلیکس میں انٹری اور ایگزٹ کا صرف ایک ہی گیٹ ہے اور اس وجہ سے اکثر سکیورٹی کے مسائل اکثر پیدا ہوتے رہتے ہیں۔

Scroll to Top