مظفرآباد: ماحول کے تحفظ اور درختوں کی دیکھ بھال کے جذبے کے تحت المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے رضاکاروں نے چہلہ کے مضافاتی پہاڑوں پر ایک عملی مہم کے دوران درختوں کے گرد اگنے والی گھاس کی کٹائی اور شاخ تراشی کے کام سرانجام دیے۔
اس موقع پر رضاکاروں نے شدید دھوپ اور دشوار گزار راستوں کے باوجود اپنی بھرپور محنت اور لگن سے درختوں کی دیکھ بھال کو کامیابی سے مکمل کیا۔
مہم کے دوران رضاکاروں نے ماحول کے تحفظ کے جذبے کے ساتھ درختوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ سبزہ و شجر کاری نہ صرف زمین کی خوبصورتی بڑھاتے ہیں بلکہ آب و ہوا کے توازن، آکسیجن کی فراہمی اور انسانی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ذریعے بھارت نے اسلام آباد میں دھماکا کروایا، سیکیورٹی ذرائع
المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر عتیق احمد کیانی نے کہا کہ “درخت اور انسانی زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ درخت نہ صرف ماحول کو خوشگوار بناتے ہیں بلکہ انسانی صحت اور بقا کے ضامن بھی ہیں۔ ان کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے، درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا نہ صرف ماحولیاتی عمل ہے بلکہ عبادت اور صدقہ جاریہ کا درجہ رکھتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات میں گھاس کو آگ لگ جاتی ہے یا لگا دی جاتی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے جنگلات کی حفاظت کریں تاکہ ہمارا شہر مزید خوبصورت ہو سکے۔ صدر المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی نے پورے آزاد کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ارد گرد موجود درختوں کی حفاظت اجتماعی طور پر کر کے انہیں محفوظ بنانے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا، “اگر خدانخواستہ جنگل میں آگ لگ جائے تو ننھے پودے اور درخت سب جل جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب ان کی نگہداشت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ درختوں کی حفاظت دراصل آنے والی نسلوں کی بقا کی ضمانت ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: واناکیڈٹ کالج میں خوارجیوں کے خلاف آپریشن جاری،سیکیورٹی ذرائع
علاقے کے مکینوں نے المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے رضاکاروں کی اس مثبت سرگرمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف ماحول کی بہتری میں مدد دیتے ہیں بلکہ نوجوانوں میں خدمتِ خلق اور ذمہ داری کا جذبہ بھی بیدار کرتے ہیں۔ اہل علاقہ نے امید ظاہر کی کہ المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کی اس شاندار عملی مہم کو دیکھتے ہوئے دیگر ذمہ دار محکمہ جات اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی اسی طرح اپنے شہر کو خوبصورت بنانے میں عملی اقدامات کریں گی تاکہ خطے میں سبزہ، قدرتی حسن اور ماحول کا توازن برقرار رہے۔




