اسلام آباد اور ڈھاکہ کو بدگمانیاں پھیلانے والےدشمن پر نظر رکھنا ہوگی، معاون خصوصی بنگلہ دیش

کراچی:بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے معاون خصوصی برائے خزانہ ڈاکٹر انیس الزمان نے تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ 60 کی دہائی میں پاکستان جن ممالک سے آگے تھا آج وہ ہم سے آگے نکل گئے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بدگمانیاں پھیلائی گئیں ہمیں اپنے دشمن پر نظر رکھنا ہوگی۔

قائداعظم ہاؤس میوزیم کراچی میں پاکستان اور بنگلادیش کے تعلقات کی بہتری سے متعلق تقریب “دو ممالک، ایک قوم” کے نام سے منعقد ہوئی۔

تقریب میں دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل، سابق گورنر سندھ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر اور بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر کے معاون خصوصی برائے خزانہ ڈاکٹر اے ایس ایم انیس الزمان سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر اے ایس ایم انیس الزمان نے کہا کہ پاکستان ڈھاکا نے بنایا، مسلم لیگ ڈھاکا میں بنی، ہمارا پاکستان پر سب سے زیادہ کلیم ہے، آج قائد کے مزار پر آ کر بنگالی لکھی ہوئی دیکھی تو حیرت ہوئی۔

ان کا کہنا تھاکہ ہمیں جھوٹ سے گریز اور حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے، 60 کی دہائی میں پاکستان بڑی ترقی کر رہا تھا، کوریا معاشی اعتبار سے بہت پیچھے تھا، آج کورین ہمارے ملک میں آ کر بتاتے ہیں کیا کیسے کرنا ہے، پہلے ہماری طرف دیکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان بنگلہ دیش تعلقات میں بڑی پیشرفت، ڈھاکہ کوکراچی پورٹ استعمال کرنے کی پیشکش

انہوں نے کہا کہ اگر ہم چاہیں تو ترقی ممکن ہے، فری ویزا تو ممکن نہیں مگر ہم کاروبار کو آسان بنانے اور فری ٹریڈ پر کام کر رہے ہیں۔

انیس الزمان چوہدری نے کہا کہ دونوں ملکوں کو حقیقت تسلیم کرناہوگی، دونوں ملکوں کے درمیان بدگمانیاں پھیلائی گئیں ہمیں اپنے دشمن پر نظر رکھنا ہوگی جو اس وقت بھی بدگمانیاں پھیلا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد میں کمی اور غلط معلومات نے فاصلے پیدا کیے اسلام آباد میں دو اہم سڑکیں تحریک پاکستان کی سرکردہ بنگالی شخصیات کے نام سے موسوم ہیں اور بنگلہ دیش میں بھی محمد علی جناح اور دیگر سرکردہ شخصیات کے نام پر ادارے آج بھی قائم ہیں ہمیں یہ معلومات اور اعتماد نئی نسل کو منتقل کرنا ہوگی۔

پاکستان میں بنگلا دیش کے ہائی کمشنر اقبال حسین خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحت اور صحت سمیت زمینی اور فضائی راستے آسان کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔

کراچی اور چٹا گانگ کے درمیان براہ راست بحری رابطوں سے تجارتی سامان کی ترسیل کا دورانیہ بیس روز سے کم ہوکر پانچ چھ دن تک مختصر کیا جاسکتا ہے جس سے تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جاسکے گی اور دونوں ممالک کی معیشت کو فائدہ پہنچائے گا۔

Scroll to Top