اِن ہاؤس تبدیلی

آزادکشمیر : 4 سال میں چوتھی بار اِن ہاؤس تبدیلی ہونے جارہی ہے

اسلام آباد ،مظفر آباد : آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں 4 سال میں چوتھی بار اِن ہاؤس تبدیلی ہونے جارہی ہے ۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر بڑی ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔ قانون ساز اسمبلی میں 4 سال کے دوران چوتھی اِن ہاؤس تبدیلی متوقع ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کر چکی ہے ۔

ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں ن لیگ کی شمولیت کے بغیر ہی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے اہم سیاسی رابطوں کے نتیجے میں کئی وزراء نے اپنی وفاداریاں تبدیل کر کے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔

یاد رہے کہ 2021 کے عام انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت قائم ہوئی تھی۔ قیوم نیازی اس وقت کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے، تاہم آٹھ ماہ بعد اپنی ہی جماعت کے ارکان اسمبلی نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروادی، جس کے بعد قیوم نیازی نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی جارحانہ اقدامات قابل مذمت ، پاک فوج کیساتھ کھڑے ہیں ،آزادکشمیر اسمبلی کا عزم

اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کے سردار تنویر الیاس بلامقابلہ وزیراعظم منتخب ہوئے، لیکن ایک سال بعد عدالت نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔ اس کے بعد اپریل 2023 میں چوہدری انوار الحق نے فارورڈ بلاک، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے وزارتِ عظمیٰ سنبھالی ۔

اب ایک بار پھر آزاد کشمیر میں سیاسی منظرنامہ بدلنے والا ہے۔ پیپلز پارٹی نے حکومت کی تبدیلی کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے اور اس مقصد کے لیے ضروری اکثریت حاصل کر لی گئی ہے ۔

پیپلز پارٹی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، آزاد کشمیر کے متعدد وزراء نے پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔

ان میں وزیر خوراک چوہدری محمد اکبر، وزیر کھیل و یوتھ محمد عاصم شریف، وزیر خزانہ عبدالماجد خان، وزیر پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ چوہدری یاسر سلطان، وزیر الیکٹرک سٹی چوہدری ارشد حسین، وزیر ریونیو و اسٹیمپ چوہدری محمد اخلاق، وزیر پاپولیشن ویلفیئر و آبپاشی سردار محمد حسین، وزیر پاور ڈیولپمنٹ محمد رشید اور وزیر ثقافت و مائنز فہیم اختر شامل ہیں ۔

ان اہم شمولیتوں کے بعد پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت نہ صرف حکومت کی تبدیلی کا باعث بنے گی بلکہ آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی کی علامت بھی ہے ۔

Scroll to Top