یو اے ای 2025 ویزا پالیسی اپڈیٹ: 107 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا لازمی قرار

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے 2025 کے لیے اپنی نئی ویزا پالیسی جاری کر دی ہے جس کے تحت 107 ممالک کے شہریوں کو ملک میں داخلے سے قبل ویزا حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یو اے ای، جو اپنی تیز رفتار ترقی، سیاحت اور عالمی روابط کے لیے معروف ہے، اب اس پالیسی اپڈیٹ کے ذریعے مہمان نوازی اور سیکیورٹی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔تازہ ترین فہرست میں افریقہ، ایشیا، یورپ اور امریکا کے متعدد ممالک شامل ہیں، جن پر نئی ویزا شرائط لاگو ہوں گی۔

ویزے کی ضرورت رکھنے والے ممالک:

تازہ فہرست میں پاکستان، بھارت، افغانستان، نائجیریا، فلپائن، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت جنوبی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک شامل ہیں۔

ان ممالک میں نمایاں ناموں میں افغانستان، الجیریا، انگولا، بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، نائجیریا، فلپائن، ایتھوپیا، کینیا، گھانا، سری لنکا، ویتنام، ترکی، کیوبا، ڈومینیکن ریپبلک، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، پالو، ساموا اور ٹوالو شامل ہیں۔

یو اے ای کی یہ تازہ ویزا فہرست ملک کی منظم امیگریشن پالیسی کو ظاہر کرتی ہے، جس کا مقصد غیر ملکی زائرین کی آمد سے قبل سیکیورٹی اور سفری ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

نو ممالک پر ویزا پابندی:

ویزے کی نئی فہرست کے ساتھ ہی یو اے ای نے 9 ممالک کے لیے سیاحتی اور ورک ویزا پر عارضی پابندی بھی عائد کر دی ہے۔ان ممالک میں نائجیریا، گھانا، سیرالیون، سوڈان، کیمرون، لائبیریا، ریپبلک آف بینن، کانگو اور برونڈی شامل ہیں۔

یہ پابندی سیاحتی اور روزگار دونوں اقسام کے ویزوں پر لاگو ہوگی، تاہم یو اے ای حکام کے مطابق یہ ایک عارضی اقدام ہے جو مستقبل میں پالیسی جائزے کے بعد تبدیل ہو سکتا ہے۔

ویزا کی ضرورت رکھنے والے ممالک کے شہریوں کے لیے درج ذیل ہدایات جاری کی گئی ہیں:

  • یو اے ای کے سفارتخانوں یا مجاز ویزا مراکز کے ذریعے پیشگی درخواست دیں۔
  • پاسپورٹ کی مدت کم از کم چھ ماہ باقی ہونی چاہیے۔
  • جلد منظوری کے دعوے کرنے والے ایجنٹس سے بچیں کیونکہ ویزا فراڈ کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
  • ویزا پالیسی میں کسی بھی تبدیلی سے باخبر رہنے کے لیے سرکاری اماراتی ذرائع پر نظر رکھیں۔

ویزا اپڈیٹ کے مقاصد:

یو اے ای کی نئی ویزا پالیسی 2025 میں ملکی سلامتی اور اقتصادی ترقی کو متوازن رکھنے کی کوشش ہے۔ یہ اقدام جعلسازی میں کمی، ویزا منظوری کے عمل میں شفافیت، اور زائرین کے ڈیٹا کی درست تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ بطور ایک عالمی سیاحتی اور کاروباری مرکز، یو اے ای ہر سال لاکھوں افراد کو کام، تجارت اور تفریح کے لیے اپنی جانب متوجہ کرتا ہے اور نئی ویزا پالیسی اسی پس منظر میں نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا نیا اے آئی فیچر، صرف الفاظ لکھیں اور خودکار تصویریں بنائیں

Scroll to Top