باغ (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)ویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر باغ میں آزاد کشمیر کے 78 ویں یوم تاسیس کے موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر انیلہ کمال نے پرچم کشائی کی تقریب کے بعد کیک کاٹا اور وطن عزیر کی سلامتی ،خوشحالی ،امن اور ترقی کے لیے نیک خواہشات اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔
دعائیہ تقریب میں آزاد کشمیر کی سلامتی ،مقبوضہ کشمیر کی آزادی، پاکستان اور افواج پاکستان کی سلامتی ،فلسطینی مسلمانوں کی آزادی اور امت مسلمہ کے لیےدعا کی گئی ۔
آج کے دن کشمیر میں گورنمنٹ کے قیام کا مقصد اس خطے کو آزادی کا بیس کیمپ بنا کر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بھائیوں کے لیے جدوجہد کرنا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کروانا تھا کیونکہ انڈیا نے خود کشمیریوں کے حق خودارادیت کو یو این او میں تسلیم کیا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے : وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کا 78ویں یوم تاسیس پر خطاب
مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا کا نہ صرف نامکمل ایجنڈا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک فلیش پوائنٹ ہے جس کا حل ناگزیر ہے ورنہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی پوری دینا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔
پاکستان نے ہمیشہ تحریک آزادی کشمیر کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے لایا ۔
انڈین آٹھ لاکھ فوج تاریخ کے بدترین ظلم و جبر کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے پست نہ کر سکی اور وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت اور پاکستان سے محبت کو کشمیریوں کے دل سے نکالنے میں ناکام رہی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر کا 78واں یوم تاسیس،تحریک کشمیر کے جھنڈے کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دینگے، وزیراعظم انوارالحق
کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کا مقصد اور منزل پاکستان سے الحاق ہے. وہ وقت دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنےگا ۔




