اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کم تنخواہ دار طبقے کو زبردست خوشخبری سنادی۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ کم تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کٹوتی میں کمی کردی گئی ہے، دیگر تنخواہ داروں کے لیے بھی ریلیف کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک نے ٹیکس اصلاحات پر ہماری پریزنٹیشن کی تعریف کی ہے، گزشتہ سال ہول سیل اور ریٹیلرز سے ٹیکس کلیکشن 100 فیصد بڑھی ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کو بتایا ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے ٹیکس کلیکشن بڑھی ہے، کمپنیاں بعض اوقات اپنے گلوبل فیصلوں کی وجہ سے بھی واپس چلی جاتی ہیں۔ عالمی بینک کو بتایا کہ ڈیجیٹلائزیشن سے گرے اکانومی سکڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 31 اکتوبرکو جاری کرنے کا حکم
وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام آیا ہے تو ہم نے دو سال میں 4 بلین ڈالر کا بیک ڈراپ نکالا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سیلاب اور اسموگ کی فریکوئنسی بڑھتی جارہی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آج ہم اپنے پاؤں کھڑے ہیں، ریسکیو اور ریلیف اپنے وسائل سے کرسکتے ہیں، تعمیر نو کے لیے ضرورت ہوتی ہے تو ہوسکتا ہے ہم عالمی اداروں سے تعاون مانگیں۔
وزیر خزانہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب اور اسموگ کی فریکیونسی بڑھتی جارہی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات معیشت پر بھی پڑتے ہی۔
سیلاب کے نقصانات سے قبل جی ڈی پی گروتھ اس سال 4.2 کا اندازہ تھا اور اس سال کے سیلاب سے 80 فیصد نقصان پنجاب میں ہوا، اگر موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی آبادی کے خطرات سے نمٹا نہ گیا تو ملکی معیشت کو تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے۔



