دوحہ:وزیردفاع نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات معمول پر آ گئے ہیں اور تشدد یا دہشتگردی کے کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے جبکہ سرحدوں کی بندش کے معاملے کا جائزہ استنبول اجلاس میں لیا جائیگا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے افغانستان کے حکام کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردی کو فوری طور پر روکا جائے اور دونوں ممالک کی جانب سے اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی۔
خواجہ آصف کہا کہ یہ معاہدہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے طے پایا اور دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی اور دشمنانہ کارروائیاں بند کرنے پر وسیع تر اتفاق رائے موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوحہ مذاکرات میں قطر اور ترکیہ کی ثالثی،پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی پر اتفاق
انہوں نے کہا کہ قطر اور ترکی کی موجودگی اور ان کی نیک نیتی اس معاہدے کے نفاذ اور دہشت گردی کے خاتمے کی ضمانت ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق وہ سرحدیں اور گزرگاہیں جو حالیہ کشیدگی کے باعث بند کی گئی تھیں، ان کا جائزہ استنبول اجلاس میں لیا جائے گا اور فیصلہ کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آ گئے ہیں اور تشدد یا دہشتگردی کے کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قطر اور ترکیہ کی شمولیت اس معاہدے کے فریم ورک کے تحت نتائج طے کرنے اور مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کریگی۔




