(کشمیر ڈیجیٹل) بہت جلد شہروں کے اندر ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کے لیے رکشہ یا ٹیکسی کی ضرورت ختم ہو جائے گی کیونکہ اب یہ کام اڑنے والی گاڑیاں سنبھالنے والی ہیں۔
چینی کمپنی ای ہانگ ہولڈنگ وہیکلز (EHang Holding Vehicles) نے ایک ایسی جدید ائیر ٹیکسی تیار کی ہے جو بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سنگل چارج پر 100 میل سے زیادہ سفر کرسکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ڈرائیور لیس فلائنگ ٹیکسی وی ٹی 35 (VT-35) کہلاتی ہے، جو شہری فضائی نقل و حرکت میں ایک بڑا انقلاب ثابت ہوگی۔ ای ہانگ کے بیان کے مطابق وی ٹی 35 شہری فضائی سفر کو محفوظ، آسان اور عام معمول میں تبدیل کر دے گی۔
یہ دو نشستوں والی اڑنے والی گاڑی جدید خودکار فلائٹ سسٹمز، الیکٹرک پروپلشن اور جدید ائیر فریم سے لیس ہے جو حفاظت کے اعلیٰ معیار پر تیار کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کو حال ہی میں چین کے صوبے آنہوئی (Anhui) کے شہر ہیفئی (Hefei) میں متعارف کرایا گیا۔ کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق وی ٹی 35 ایک سنگل چارج پر 125 میل تک سفر کر سکتی ہے اور 134 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ سواری ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی انداز میں اڑان اور لینڈنگ کر سکتی ہے، یعنی اسے چھتوں، پارکنگ ایریاز اور دیگر شہری مقامات پر آسانی سے اتارا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے حالیہ تجربات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ ائیر ٹیکسی حرکت کرتے ہوئے بحری جہاز پر بھی کامیابی سے لینڈ کر سکتی ہے۔ یہ جدید سواری 950 کلوگرام وزن کے ساتھ پرواز کر سکتی ہے، جبکہ اس میں انسانی پائلٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، زمین پر موجود کنٹرول ٹیم اس کے مختلف سسٹمز کو مانیٹر اور کنٹرول کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد میں ڈینگی کے بڑھتے کیسز، ضلعی انتظامیہ کی انسدادِ ڈینگی سپرے مہم جاری
ای ہانگ کمپنی نے وی ٹی 35 کی ابتدائی قیمت 9 لاکھ 13 ہزار 600 امریکی ڈالر مقرر کی ہے۔ فی الحال اس کی آزمائش جاری ہے، جس کے بعد اسے باضابطہ طور پر فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ مستقبل قریب میں شہری ٹرانسپورٹ کے انداز بدلنے والے ہیں، جہاں رکشے اور ٹیکسیوں کی جگہ اڑنے والی گاڑیاں عام شہری زندگی کا حصہ بن جائیں گی۔




