(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ڈینگی کے کیسز میں اضافے کے باعث ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انسدادِ ڈینگی سپرے مہم زور و شور سے جاری ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً پلیٹ، چہلہ اور گردونواح میں محکمہ صحت، محکمہ زراعت اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر سپرے کر رہی ہیں تاکہ مچھروں کی افزائش کو روکا جا سکے۔ انتظامیہ نے مہم کو مؤثر اور مربوط بنانے کے لیے مختلف اداروں کو مخصوص ذمہ داریاں تفویض کی ہیں۔ ہر علاقے کے لیے علیحدہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو اپنے اپنے دائرہ کار میں کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر مظفرآباد محی الدین گیلانی خود فیلڈ میں جا کر سپرے مہم کا جائزہ لے رہے ہیں اور ٹیموں کی کارکردگی کا معائنہ کر رہے ہیں تاکہ مہم کے نتائج بہتر ہوں۔
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں، صحنوں اور محلوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں کیونکہ یہی ڈینگی مچھر کی افزائش کا بنیادی ذریعہ ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ ڈینگی کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکے۔ اسی دوران، آزاد جموں و کشمیر میں ڈینگی وائرس کا پھیلاؤ تیز ہو گیا ہے۔ ڈینگی کنٹرول روم کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 69 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 3,214 تک جا پہنچی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، مظفرآباد میں سب سے زیادہ 2,319 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، باغ میں 114، میرپور میں 608 اور جہلم ویلی میں 16 کیسز سامنے آئے ہیں۔ مزید برآں، نیلم میں 36، سدھنوتی میں 3، حویلی میں 6 اور پونچھ ضلع میں 42 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ کوٹلی میں 18 اور بھمبر میں 12 نئے کیسز شامل ہیں۔ ڈینگی کے باعث اب تک دو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ڈینگی کنٹرول روم کے مطابق مختلف ہسپتالوں میں 26 مریض زیر علاج ہیں جبکہ 431 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو منتقل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع حویلی کے گاؤں کلساں زیریں میں ایک بار پھر تیندوا دیکھا گیا، عوام خوفزدہ
محکمہ صحت نے عوام سے دوبارہ اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گھروں اور گلیوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ ڈینگی مچھر کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔




