(کشمیر ڈیجیٹل) دہی کو صدیوں سے صحت بخش غذا کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے تمام فوائد اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب اسے درست وقت پر اور مناسب مقدار میں کھایا جائے۔ غلط وقت پر دہی کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین اس حوالے سے کچھ خاص ہدایات دیتے ہیں۔
دہی کھانے کا بہترین وقت کونسا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہی کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، اس لیے دوپہر کے وقت دہی کھانا سب سے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ دوپہر میں نظامِ ہاضمہ زیادہ فعال ہوتا ہے اور جسم دہی میں شامل غذائی اجزاء کو بہتر طور پر جذب کرتا ہے۔ دہی میں موجود پرو بائیوٹکس آنتوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، جبکہ بھنے ہوئے زیرے کے ساتھ دہی کھانے سے ہاضمے میں مزید بہتری آتی ہے۔ روزانہ دہی کے استعمال سے قبض، بدہضمی اور تھکاوٹ جیسے مسائل میں کمی آتی ہے، جبکہ یہ جسم کو توانائی بھی فراہم کرتا ہے۔
رات کے وقت دہی نقصان دہ کیوں؟
آیوروید کے اصولوں کے مطابق رات کے وقت دہی کھانا جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چونکہ رات میں جسم کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے، دہی کی ٹھنڈی تاثیر نزلہ، کھانسی، بلغم اور جوڑوں کے درد میں اضافہ کر سکتی ہے۔ سردیوں میں صبح یا رات کے وقت دہی سے اجتناب کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اگر رات میں دہی کھانے کی ضرورت محسوس ہو تو اس میں بھنا ہوا زیرہ، تھوڑا نمک یا معمولی چینی شامل کر کے کھایا جا سکتا ہے تاکہ ہاضمے میں آسانی ہو۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
ماہرین کے مطابق دل کے مریضوں اور ہائی کولیسٹرول کے شکار افراد کو دہی کھاتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔ ایسے افراد کو کم چکنائی والا دہی استعمال کرنا چاہیے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے میٹھا دہی نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں شامل چینی کیلوریز میں اضافہ کرتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر یا گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے دہی میں نمک شامل کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ صحت مند افراد معمولی مقدار میں چینی یا نمک شامل کر سکتے ہیں، جبکہ دہی میں پھل یا سبزیاں شامل کر کے اسے مزید غذائیت بخش بنایا جا سکتا ہے۔
پروبائیوٹکس اور غذائیت کے فوائد:
پروبائیوٹکس دہی کا اہم جز ہیں جو آنتوں کے توازن کو بہتر بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دہی کے استعمال سے دل کے امراض، قبض، بدہضمی اور سوزش جیسے مسائل میں بہتری آتی ہے۔ اس میں موجود کنجوگیٹڈ لینولیک ایسڈ جسم کی چربی کم کرنے اور چھاتی کے کینسر کے خطرات گھٹانے میں مدد دیتا ہے۔ یونانی دہی میں بائیفائیڈوبیکٹیریا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو آنتوں کی صحت کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔ دہی کو پھلوں یا سبزیوں کے ساتھ کھانے سے قوتِ مدافعت بڑھتی ہے اور آنتوں کے امراض جیسے کینسر یا انفیکشنز سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔
کون سا دہی بہترین ہے؟
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ نیم رچ یا اسکِمڈ دہی بہتر انتخاب ہے کیونکہ اس میں چکنائی کم ہوتی ہے۔ ایک کپ دہی میں اوسطاً 15 گرام پروٹین ہونا چاہیے۔ اسی طرح میٹھے دہی کے بجائے سادہ دہی کا استعمال بہتر ہے، جس میں اگر چاہیں تو معمولی شہد یا چینی شامل کی جا سکتی ہے۔ دہی یقیناً ایک مکمل اور صحت بخش غذا ہے، لیکن اس کے تمام فوائد اسی وقت حاصل ہوں گے جب اسے درست وقت، مناسب مقدار اور مناسب طریقے سے کھایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف پاکستان پر قومی مفاد کے خلاف کوئی شرط عائد نہیں کر سکتا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب




