باغ (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے نواحی گاؤں سٹرول کے رہائشی 107 سالہ بزرگ اپنی عمر کے اس طویل سفر میں بھی حیرت انگیز یادداشت کے حامل ہیں۔ اگرچہ ان کی قوتِ سماعت اور گویائی اب کمزور ہو چکی ہے، مگر ان کا حافظہ آج بھی ایسا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ وہ برٹش آرمی اور بعد ازاں پاکستان آرمی میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
نور عالم خان اعوان کے مطابق، جب پاکستان قائم ہوا تو ان کی عمر 30 سال تھی اور وہ اُس وقت حاضر سروس فوجی تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 14 اگست 1947 کو وہ راولپنڈی میں تعینات تھے جب اُنہیں یہ خوشخبری ملی کہ پاکستان آزاد ہو گیا ہے۔ “اس وقت ہمارے جوانوں نے خوشی میں خوب جشن منایا، ہر کوئی نعرے لگا رہا تھا، یہ لمحہ آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ اپنی سروس کے دوران انہوں نے بھارت کے مختلف علاقوں — دہلی، کلکتہ، مدراس اور راجستھان سمیت تقریباً پورے ہندوستان کا سفر کیا۔ “میں متحدہ ہندوستان کے دور میں پورے بھارت میں گھوما ہوں، آج بھی ایک ایک جگہ یاد ہے، بس اب جسم ساتھ نہیں دیتا، مگر دماغ ابھی بھی ویسے ہی کام کرتا ہے۔”
نور عالم خان اعوان نے بتایا کہ اُن کے گاؤں سٹرول بیرپانی میں اُس وقت صرف چار مکان تھے۔ “آج جدھر نظر ڈالیں، مکان ہی مکان ہیں۔ زمانہ بدل گیا ہے، ترقی ہو گئی ہے، مگر وہ دن اور وہ حالات کبھی نہیں بھولے جا سکتے۔”
انہوں نے ماضی کی جدوجہد یاد کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت آزاد کشمیر میں ڈوگرہ راج قائم تھا اور مسلمانوں پر بے شمار ظلم ہو رہے تھے۔ “پھر یہاں کے مسلمانوں اور ہمارے قبائلی بھائیوں نے مل کر ڈوگرہ فوج کا مقابلہ کیا، قربانیاں دیں اور یہ خطہ آزاد ہوا۔ آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، یہ قربانیوں کا ثمر ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر یو این ویمن پاکستان کی نیشنل گڈ وِل ایمبیسیڈر مقرر
107 سالہ نور عالم خان اعوان کی زندگی جدوجہد، ایمان اور وطن سے محبت کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کی گفتگو میں تاریخ کے وہ تمام باب زندہ ہو جاتے ہیں جو آج کی نسلوں نے صرف کتابوں میں پڑھے ہیں۔ ان کے تجربات اور یادوں پر مبنی تفصیلی انٹرویو کشمیر ڈیجیٹل کے رپورٹر عاصم چغتائی نے ریکارڈ کیا، جو جلد ناظرین کے لیے پیش کیا جائے گا۔




