ماضی میں تعلیمی اداروں میں خوشخطی پر نمبر دیے جاتے تھے، لیکن کمپیوٹر اور کِی بورڈ کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے ہاتھ سے خوشخط لکھنے کی اہمیت کم سمجھی جاتی ہے۔تاہم انڈیا کی ایک عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر لکھنے والا ڈاکٹر ہے تو خوشخط اور پڑھنے کے قابل لکھائی ضروری ہے۔
ڈاکٹروں کی بدخطی پر پاکستان اور انڈیا سمیت دنیا بھر میں لطیفے مشہور ہیں۔ عموماً پرچی پر لکھی اس تحریر کو صرف فارمیسی یا کیمسٹ ہی پڑھ سکتے ہیں، مگر بعض اوقات ان کے لیے بھی یہ آسان نہیں ہوتا۔
گذشتہ سال وسطی انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے ایک ڈاکٹر کا لکھا گیا نسخہ وائرل ہوا تھا جسے کوئی بھی پڑھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس واقعے کے بعد ڈاکٹروں کی تحریر ایک بار پھر بحث کا موضوع بنی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پرانی گاڑیوں کی درآمد پر کمرشل بنیادوں پر پابندی ختم
حالیہ دنوں میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو واضح اور صاف لکھائی اپنانے پر زور دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ “پڑھنے کے قابل طبی نسخہ ایک بنیادی انسانی حق ہے” کیونکہ یہ زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کرسکتا ہے۔




