چھ خلیجی ممالک کے لیے ایک ہی سیاحتی ویزا کا اعلان

ابوظہبی (کشمیرڈیجیٹل): خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے رواں سال کی آخری سہ ماہی میں متحدہ سیاحتی ویزا کے پائلٹ مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان متحدہ عرب امارات کے وزیر معیشت و سیاحت اور امارات ٹورازم کونسل کے چیئرمین عبداللہ بن طوق المری نے کیا۔

عبداللہ بن طوق المری نے اس منصوبے کو “اسٹریٹیجک سنگ میل” قرار دیا جو خطے میں انضمام کو مزید مضبوط کرے گا اور خلیج کو سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مشترکہ منزل کے طور پر پیش کرے گا۔ وزیر کے مطابق یہ ویزا، جسے “جی سی سی گرینڈ ٹورسٹ ویزا” کہا جا رہا ہے، مرحلہ وار متعارف کرایا جائے گا اور بعد ازاں مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔

چھ خلیجی ممالک: یہ منصوبہ شینگن ویزا سے مشابہ ہے اور اس کے تحت سیاح متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین، عمان اور کویت سمیت تمام چھ خلیجی ممالک میں آزادانہ سفر کر سکیں گے۔

اجراء کی تاریخ: وزیر نے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم 16 جون کو “خلیج ٹائمز” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ نظام پہلے ہی منظور ہو چکا ہے اور وزارت داخلہ سمیت دیگر فریقین کی حتمی منظوری کا منتظر ہے۔

ویزے کی لاگت اور دورانیے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے کی سیاحت کی صنعت کو نئی جہت دے گا، روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کرے گا اور مجموعی علاقائی معیشت کو بڑا فروغ دے گا۔

یہ ویزا مذہبی سیاحت کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتے ہوئے “بلیژر ٹریول” یعنی کاروبار اور سیاحت کے امتزاج کو بھی فروغ دے گا۔

سیاحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تمام خلیجی ممالک کو فائدہ پہنچے گا تاہم سب سے زیادہ فائدہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو ہوگا۔

اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات نے 2024 میں 3.3 ملین خلیجی سیاحوں کو خوش آمدید کہا جو تمام ہوٹل مہمانوں کا 11 فیصد بنتے ہیں۔ ان میں سعودی سیاحوں کی تعداد 1.9 ملین تھی، جبکہ عمان سے 777,000، کویت سے 381,000، بحرین سے 123,000 اور قطر سے 93,000 سیاح شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: عرب ممالک کا ٹرمپ کے غزہ امن منصوبےکا خیرمقدم

مزید برآں، عبداللہ بن طوق المری نے یہ بھی بتایا کہ ستمبر 2025 کے وسط تک متحدہ عرب امارات نے سیاحت، ہاسپیٹیلٹی، ایوی ایشن اور ڈیجیٹل ٹریول سروسز جیسے شعبوں کے لیے 39,546 کمرشل لائسنس جاری کیے، جو 2020 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 275 فیصد زیادہ ہیں۔

Scroll to Top