بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا ہے، جس سے پنجاب اور جنوبی علاقوں میں بڑے سیلاب کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مزید بارشوں کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے جس کے باعث 24 گھنٹے اہم قرار دیئے گئے ہیں۔
وزارت آبی وسائل نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن نے ہریکے اور فیروز پور میں انتہائی اونچے سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے، جس کے بعد پاکستان میں تمام متعلقہ محکموں کو ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری ہائی الرٹ میں کہا گیا ہے کہ صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ جلال پور پیروالا میں بند ٹوٹنے کے باعث کئی دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔
دریائے ستلج، راوی اور چناب کے سنگم پر صورتحال نہایت خطرناک ہو چکی ہے، خاص طور پر ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تحصیل علی پور، مظفرگڑھ میں کئی دیہات زیر آب آ چکے ہیں جبکہ خیرپور ٹامیوالی، رحیم یار خان، اور لیاقت پور میں ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔
بڑی سیلابی لہر آئندہ چند گھنٹوں میں راجن پور کے قریب کوٹ مٹھن سے گزرنے کا امکان ہے، حکام نے مزید نقصانات کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جلالپور پیروالا میں اونچے درجے کا سیلاب، انخلا کی کوششیں تیز
ادھرپنجاب کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں کی پیش گوئی کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دوبارہ سیلابی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے سربراہ عرفان علی کاٹھیا کے مطابق، مون سون کی دسویں لہر9 ستمبر تک جاری رہے گی، جس سے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، خطرناک مقامات میں ہیڈ پنجند 609,604 کیوسک انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ تریمو 543,000کیوسک، گنڈا سنگھ والا (ستلج) 319,000 کیوسک انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، ہیڈ سلیمانکی (ستلج) 135,000 کیوسک اونچے درجہ کا سیلاب، بلوکی ہیڈ ورکس (راوی) 139,000 کیوسک انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
جنوبی پنجاب میں دریائے چناب ملتان میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ہیڈ محمد والا روڈ سے 543,000 کیوسک پانی گزر رہا ہے۔ شدید خطرات کے باوجود قاسم بیلا، لنگڑیال، اور شیر شاہ کے مکین اپنے گھروں سے نکلنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
ادھرسیلابی صورتحال اب سندھ میں داخل ہو چکی ہے۔ میرپور خاص، شہید بینظیر آباد اور لاڑکانہ میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری، کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
گڈو بیراج پر9 ستمبر کو8 لاکھ کیوسک پانی پہنچنے کی پیش گوئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کی مکمل تیاری کر رکھی ہے اور متاثرہ علاقوں سے انخلا جاری ہے۔
.
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، مون سون کے دوران اب تک 910 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں خیبر پختونخوا 504، پنجاب 234، سندھ 58، بلوچستان 26، گلگت بلتستان 41، آزاد کشمیر 38، اسلام آباد 9، افراد شامل ہیں، اس کے علاوہ 6,180 مویشی ہلاک اور7,848 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، تاہم آئندہ چند دن نہایت اہم اور خطرناک ہوں گے۔




