پرنس ہیری کی برطانیہ واپسی، والد سے ملاقات سوالیہ نشان

(کشمیر ڈیجیٹل) شہزادہ ہیری اس ہفتے برطانیہ واپسی کے لیے تیار ہیں، تاہم سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا وہ اپنے والد، کنگ چارلس، سے ملاقات کر سکیں گے یا نہیں۔

رواں ہفتے ان کی دادی، ملکہ الزبتھ، کے انتقال کی تیسری برسی بھی ہے۔ ہیری “ویل چلڈ ایوارڈز” کی سالانہ تقریب میں شرکت کریں گے، جو سنگین بیماریوں میں مبتلا بچوں کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔ یہ وہ چند مواقع میں سے ایک ہے جو انہیں برطانیہ لاتا ہے۔

شاہی مبصرین کے مطابق یہ دورہ 76 سالہ بادشاہ اور ان کے بیٹے کے درمیان تعلقات میں بہتری کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم بکنگھم پیلس اور ہیری کے ترجمان دونوں نے اس بارے میں کوئی موقف دینے سے گریز کیا ہے۔

ہیری کی اپنے والد سے آخری ملاقات فروری 2024 میں ہوئی تھی، جب بادشاہ کے کینسر کے علاج کی خبر سامنے آئی تھی۔ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن 2020 میں شاہی فرائض چھوڑ کر امریکا منتقل ہو گئے تھے، جس کے بعد سے ان کے خاندان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔

ماضی میں ہیری نے متعدد انٹرویوز، اپنی کتاب “سپئیر” اور دستاویزی فلموں میں شاہی خاندان پر تنقید کی۔ تاہم مئی میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ “زندگی قیمتی ہے اور لڑائی کا کوئی فائدہ نہیں، اس لیے میں اپنے خاندان سے مصالحت چاہتا ہوں۔”

جولائی میں لندن میں بادشاہ کے مواصلات کے سربراہ اور ہیری کے میڈیا نمائندے کے درمیان ایک خفیہ ملاقات بھی ہوئی تھی، جسے مبصرین نے مصالحت کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔

تاریخ دان اینتھونی سیلڈن کا کہنا ہے کہ بادشاہت کی ساکھ کے لیے ضروری ہے کہ بادشاہ اور ان کا چھوٹا بیٹا ایک دوسرے سے بات کرتے دکھائی دیں، کیونکہ یہ نہ صرف خاندانی رشتوں بلکہ شاہی ادارے کی شبیہ کے لیے بھی اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جلالپور پیروالا میں اونچے درجے کا سیلاب، انخلا کی کوششیں تیز

البتہ رپورٹس کے مطابق شہزادہ ہیری کی بڑے بھائی، ولیم، سے ملاقات کا امکان نہیں ہے، کیونکہ وہ ابھی اختلافات ختم کرنے کے لیے تیار نہیں سمجھے جاتے۔

Scroll to Top