بھارت ٹرمپ

بھارت جلد ٹرمپ کے سامنے سر جھکائے گا : امریکی وزیر تجارت کا دعویٰ

وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوستی کے دعوے اس وقت کھوکھلے دکھائی دینے لگے ہیں جب واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے ۔

امریکی کامرس سیکرٹری ہاورڈ لٹ نک نے بلومبرگ کو د ئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بھارتی حکومت موجودہ دباؤ زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکے گی اور جلد یا بدیر امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہو جائے گی ۔

ان کے مطابق ایک سے دو ماہ میں بھارت نہ صرف دوبارہ مذاکرات کی میز پر لوٹے گا بلکہ صدر ٹرمپ کے ساتھ براہ راست معاملات طے کرنے کی کوشش بھی کرے گا،معافی بھی مانگے لگا ۔

ہاورڈ لٹ نک کا کہنا تھا کہ فی الحال بھارتی حکام امریکی پابندیوں کے مقابلے میں سخت رویہ اپنائے ہوئے ہیں، لیکن یہ صرف نمائشی اقدامات ہیں ۔

اصل صورتحال یہ ہے کہ بھارتی کاروباری طبقہ حکومت پر دباؤ ڈالے گا کہ امریکا سے سمجھوتہ کیا جائے تاکہ بڑے تجارتی نقصانات سے بچا جا سکے ۔

 مزید یہ بھی پڑھیں:آسٹرین ماہر معاشیات کو خالصتان کی حمایت مہنگی پڑ گئی ، بھارت میں ایکس اکائونٹ بلاک

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے تعاون نہ کیا تو اس کی برآمدات پر مزید ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت ایک طرف روس سے کم قیمت پر تیل خرید رہی ہے اور دوسری طرف برکس اتحاد کا حصہ بنی ہوئی ہے جو براہِ راست امریکی مفادات کے خلاف ہے ۔

امریکی سیکرٹری کے مطابق اگر نئی دہلی نے روسی تیل کی درآمدات نہ روکیں اور برکس سے الگ نہ ہوا تو بھارت کو 50 فیصد تک اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بھارتی تیل کی درآمدات پر ناپسندیدگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس کے جواب میں بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ایکسپورٹرز کو امریکی پابندیوں اور اضافی محصولات کے اثرات سے بچانے کے لیے متبادل حکمت عملی پر غور کر رہی ہے ۔

Scroll to Top