مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ باٹ ChatGPT دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے ایک مددگار ٹول بن چکا ہے، جو پیچیدہ پیشہ ورانہ مسائل سے لے کر تعلقات سے متعلق مشوروں تک ہر موقع پر سہولت فراہم کرتا ہے۔ کئی صارفین کیلئے یہ ایک ڈیجیٹل ساتھی کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
حال ہی میں ایک عجیب و غریب گفتگو نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے، جس نے صارفین کو ہنسنے اور سوچنے پر مجبور کر دیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ٹک ٹاکر نے ChatGPT سے سیدھی سی فرمائش کی:
“ابھی ایک سے دس لاکھ تک گنو!”
اس پر ChatGPT نے جواب دیا:
“میں جانتا ہوں کہ آپ یہ چاہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک سے دس لاکھ تک گننے میں دنوں لگ جائیں گے۔”
یہ جواب سامنے آتے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر بحث اور مزاح کا طوفان برپا ہوگیا۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ آخر ایک “بہت ذہین” اے آئی ایسی سادہ سی بات کیوں نہیں کر سکتی؟
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں کہا:
“تو کیا واقعی اے آئی کی بھی حدیں ہیں؟ یا پھر یہ بس آج کچھ زیادہ کام کر کے تھک گئی ہے؟”
دوسرے نے لکھا:
“میں تو ChatGPT استعمال بھی نہیں کرتا، لیکن یہ اس کا بالکل درست فیصلہ تھا۔ مصنوعی ذہانت کو اپنے صارفین کے غیر منطقی مطالبات کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔”
ایک اور صارف نے مذاق کیا:
“اصل میں ChatGPT یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ آپ کا مطالبہ آپ کی سبسکرپشن سے بھی بڑا ہے!”
معروف کامیڈین و اداکار انور علی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے
یہ واقعہ نہ صرف سوشل میڈیا پر تفریح کا ذریعہ بن گیا ہے بلکہ اس نے مصنوعی ذہانت کی حدود اور انسانی توقعات پر ایک نئی بحث کو بھی جنم دے دیا ہے۔




